حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں ، سرکاری ملازمین سیاسی دباؤ سے متاثر نہ ہوں : وفاقی آئینی عدالت

 حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں ، سرکاری ملازمین سیاسی دباؤ سے متاثر نہ ہوں : وفاقی آئینی عدالت

عوام اور ریاست کے خادم کے طور پر فرائض دیانتداری و بے خوفی سے انجام دیں، ترقی لازمی حق نہیں، قواعد کے مطابق منصفانہ غور ضروری:عدالت، پولیس افسر کی اپیل خارج پہلے مقرر ہونے والے ججوں کی مدت ملازمت ختم کرنے کیلئے 65سال عمر کی حد والی قانونی ترمیم کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا، نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار، سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم

اسلام آباد (حسیب ریاض ملک، دنیا نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے پولیس افسر کے ترقی کے کیس میں اہم فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے سول سرونٹس کیلئے قائداعظم کی تقریر کی بنیاد پر اصول بیان کردیئے ، فیصلے کے مطابق سرکاری ملازمین کسی قسم کے سیاسی دباؤ سے ہرگز متاثر نہ ہوں، عوام اور ریاست کے خادم کے طور پر فرائض دیانت داری اور بے خوفی سے انجام دیں، حکومتیں، وزرائے اعظم اور وزرا آتے جاتے رہتے ہیں، حمایت یا مخالفت آپ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ سیاست دانوں کو سرکاری ملازمین کے کام میں مداخلت کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ، مداخلت سے بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربا پروری جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں، حکومتوں کی وفاداری اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ خدمت کریں۔ ترقی لازمی حق نہیں، قواعد کے مطابق صرف منصفانہ زیرغور لانا حق ہے ، تین مرتبہ ترقی مؤخر ہونے سے افسر کو خودکار ترقی کا حق حاصل نہیں مل جاتا۔ ترقی کیلئے مذکورہ افسر کا مقرر کردہ معیار پر پورا اترنا ضروری ہے۔

آئینی عدالت نے پولیس افسر تنویر احمد طاہر کی ترقی کیلئے دائر اپیل خارج کر دی۔ فیصلے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں ہماری مداخلت کا کوئی جواز نہیں۔ علاوہ ازیں وفاقی آئینی عدالت نے انسداد دہشتگردی عدالتوں کے ججوں کو مقررہ مدت سے پہلے عہدے سے ہٹانے کا حکومتی نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 65 سال عمر کی حد مقرر کرنے والی قانونی ترمیم کا اطلاق ترمیم سے پہلے مقرر ہونے والے ججوں کی جاری مدت ملازمت ختم کرنے کیلئے نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محمد یامین کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ حکومت کا 22 اکتوبر 2025 کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے 15صفحات پر مشتمل تحریری تفصیلی فیصلہ میں قرار دیا کہ درخواست گزار کو انسداد دہشتگردی عدالت نمبر چار کراچی کے جج کی حیثیت سے مقررہ ڈھائی سالہ مدت مکمل کرنے تک عہدے پر برقرار رہنے کا حق حاصل ہے تاہم یہ حق ان کی تقرری پر لاگو قانونی شرائط کے تابع ہوگا۔ آئینی عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ مقررہ مدت کیلئے کی گئی تقرری سے جج کو عہدے پر مقررہ مدت تک رہنے کا قانونی حق حاصل ہوتا ہے جسے بعد میں کی گئی ترمیم کے ذریعے واضح قانونی اجازت کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...