فیلڈ مارشل کی ایرانی صدر سے ملاقات : سید عاصم منیر کا جنگ بندی کے بعد چوتھا دورہ تہران ، وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ساتھ گئے پاکستان کا ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم
چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کی ایرانی مذاکراتی ٹیم سے بھی الگ الگ ملاقاتیں،امریکا نے اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی اور دھمکیوں سے بداعتمادی بڑھائی،7شرائط پوری کرنا ہوں گی، باقر قالیباف علاقائی کشیدگی کے حل کیلئے مذاکرات موثر ترین راستہ،علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اجتماعی، باہمی تعاون پر مبنی، پائیدار کثیرالجہتی حل ضروری، اسحاق ڈار ، ایس سی او سربراہانِ حکومت کے اجلاس سے خطاب
تہران ،اسلام آباد،دوشنبے (دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی مذاکراتی ٹیم سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں ۔ عاصم منیر ایران کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کیلئے منگل کو تہران پہنچے ،اُن کے ساتھ اس دورے پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل بھی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔جنگ بندی کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ چوتھا سرکاری دورہ ہے ۔اس سے قبل دو ستمبر کو اپنے دورئہ ایران کے دوران انھوں نے صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی، پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کی تھیں۔حالیہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب آبنائے ہرمز کے مستقبل سمیت مختلف معاملات پر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔عاصم منیر کا یہ دورہ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے پیر کے روز ایران کے دورے کے بعد کیا گیا ہے ۔ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کی مذاکراتی ٹیم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکا ایران کی پیش کردہ سات شرائط پوری کیے بغیر ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ دھمکیاں اور فوجی نقل و حرکت ایران کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔ میں نے امریکی نائب صدر کو واضح طور پر بتایا کہ اسلامی انقلاب سے پہلے اور بعد میں امریکا کے ایران مخالف طویل منفی اقدامات نے ہمارے دلوں میں امریکا کے حوالے سے گہری بداعتمادی پیدا کر دی ہے ۔ باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت کی خلاف ورزی اور بار بار دی جانے والی دھمکیوں نے اس بداعتمادی کو پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دیا ہے ، ہمارے پاس کہنے کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ سپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہاکہ امریکہ ایران کا اعتماد اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ نیویارک میں ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات شرائط پوری نہیں کرتا،ان کا کہناتھا کہ دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں ہوگا،دھمکیاں اور فوجی مشقیں ایران کے تزویراتی فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ باقر قالیباف نے کہاکہ امریکا نے غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑ کر خود کو ایک دلدل میں پھنسا لیا ہے ،اب امریکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دلدل سے نکلنے کیلئے ضروری اقدامات کرے۔
دریں اثنا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے ، انہوں نے کہا پاکستان کا اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری موثر ترین راستہ ہیں، پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں بھی مصروف ہے اور دیرپا امن و استحکام کیلئے مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔کہ علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی، باہمی تعاون پر مبنی اور پائیدار کثیرالجہتی حل ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور یوریشیا کو ملانے والے قدرتی پل کی حیثیت سے پاکستان علاقائی ہم آہنگی، تجارت، راہداری روابط اور اقتصادی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے ۔اسحاق ڈار نے کہا شنگھائی تعاون تنظیم ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار اقتصادی نمو میں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے ، زراعت، کان کنی، معدنیات اور آئی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے حامی ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ایجنڈے پر عمل درآمد کیلئے پرعزم ہیں، ایس سی او کا خطہ عالمی اقتصادی ترقی کا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے ، شنگھائی تعاون تنظیم نے تجارت، بنیادی ڈھانچے ، ثقافت و جدت کے شعبوں تک اپنا دائرہ کار وسیع کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت شنگھائی سپرٹ سے ہماری وابستگی کا عکاس ہے ، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں ہدفی سرمایہ کاری معاشی انضمام کیلئے اہم ہے ۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے تاجکستان کے وزیر خارجہ سراج الدین مہرالدین سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تجارت، اقتصادی تعاون، علاقائی روابط، توانائی، سلامتی اور عوامی سطح پر تبادلوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور امن و خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے علاقائی اور کثیرالجہتی فورمز پر مسلسل رابطے اور ہم آہنگی کی اہمیت اجاگر کی۔اسحاق ڈار تاجکستان کا دورہ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد دوشنبے سے وطن روانہ ہو گئے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments