پشاور ہائیکورٹ : گورنر راج، ایمر جنسی پر سماعت ، فوری عبوری ریلیف نہ ملا ، اٹارنی جنرل کو نوٹس : اس معاملے کو دیکھتے ہیں اور آرڈرکرینگے : عدالت

 پشاور ہائیکورٹ : گورنر راج، ایمر جنسی پر سماعت ، فوری عبوری ریلیف نہ ملا ، اٹارنی جنرل کو نوٹس : اس معاملے کو دیکھتے ہیں اور آرڈرکرینگے : عدالت

آپ کو کس حد تک ایمرجنسی،گورنر راج پر اعتراض ؟ ہم کس بنیاد پر جواب مانگیں؟عدالت، صرف ضم اضلاع کی حد تک گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ٹھیک ہے ،وکیل گھروں پر چھاپے ،ہمارے ارکان اسمبلی اٹھائے گئے ،بیرسٹر گوہر، ایمرجنسی ،گورنر راج کیلئے صوبائی حکومت کی اجازت ضروری، سلمان راجہ، سماعت 10 نومبر تک ملتوی

پشاور (دنیا نیوز،اے پی پی ،این این آئی) پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ،جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار، خیبر پختونخوا بار کونسل اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنمائوں سمیت متعدد درخواستوں کی سماعت کی،دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کس حد تک ایمرجنسی اور گورنر راج پر اعتراض ہے ؟ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صرف ضم اضلاع کی حد تک گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ٹھیک ہے ،عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ نے درخواست میں نیشنل ایکشن پلان کا ذکر ہے ؟ اگر ہم جواب طلب کریں تو کس بنیاد پر کریں گے؟

دورانِ سماعت بیرسٹر گوہر نے عدالت سے ایمرجنسی اور گورنر راج معطل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی دن میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہوئی، اسی دن ایڈوائزری کونسل تشکیل پائی، 38 ڈپٹی کمشنر تبدیل ہوئے ، ہمارے 12 اراکینِ قومی اسمبلی، 13 اراکینِ صوبائی اسمبلی اٹھائے گئے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے دفاتر گرائے گئے ، ترقیاتی کاموں کی افتتاحی تختیاں توڑی گئیں، ہم سے مینڈیٹ لیا گیا، گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایمرجنسی اور گورنر راج معطل کیا جائے ، سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی، سہیل آفریدی، سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت دیگر ارکان غیر قانونی حراست میں ہیں، سپیکر اور وزیر اعلیٰ کو اس طرح نہیں ہٹایا جا سکتا، صوبائی حکومت کو بحال کرنے کے ساتھ وزیر اعلیٰ اور اسپیکر کو بازیاب کروایا جائے ۔جسٹس اعجاز نور نے کہا کہ وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل ودیگر کو نوٹس جاری کرتے ہیں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم نے عبوری ریلیف مانگا ہے ، عدالت نے کہا کہ ہم اس معاملے کو دیکھتے ہیں آرڈر کریں گے ،عدالت نے اٹارنی جنرل کے دفتر کو نوٹس جاری کر دیا، جس کے بعد درخواستوں پر سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...