ایک شخص پر 100سے زائد مقدمات درج ہوجاتے ،ملک میں تماشا بنا ہوا :سپریم کورٹ

ایک شخص پر 100سے زائد مقدمات درج ہوجاتے ،ملک میں تماشا بنا ہوا :سپریم کورٹ

اپنے نظام کا ہم خود مذاق بناتے ، جمشید دستی پر انفیکشن پھیلانے کا مقدمہ بھی درج ، کیا وہ بیماریاں پھیلاتے ہیں؟ جسٹس ملک شہزاد الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت اور تمام صوبوں کو 10 روز میں جمشیددستی کے خلاف درج مقدمات کا مکمل ریکارڈ جمع کرانے کا حکم

اسلام آباد (حسیب ریاض ملک)سپریم کورٹ نے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کے معاملے میں فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت اور تمام صوبوں کو 10 روز میں ان کے خلاف درج مقدمات  کا مکمل ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دے دیا، عدالت نے جمشید دستی کی ضمانت میں 4 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے معاملہ تین رکنی بینچ کو بھجوانے یا دو رکنی بینچ میں سننے سے متعلق جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ جمشید دستی کے خلاف صوبے میں 47 مقدمات درج ہیں ریکارڈ عدالت میں جمع کرا دیا گیا۔جمشید دستی کے وکیل دل محمد علیزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف ایف آئی اے میں بھی خفیہ مقدمات درج ہیں، جمشید دستی کے خلاف دو ہزار روپے کاموبائل فون چوری کرنے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے ۔

اس پر جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ ایک شخص کے خلاف مختلف صوبوں میں 100 سے زائد مقدمات درج ہو جاتے ہیں، یہاں بھینس چوری کے بھی مقدمات درج ہوتے ہیں،جمشید دستی پر انفیکشن پھیلانے کا مقدمہ بھی درج ہے ، کیا وہ بیماریاں پھیلاتے ہیں؟ انہوں نے کہا اتنے مقدمات درج کر دیئے جاتے ہیں کہ ایک شخص ساری زندگی انہیں بھگتتا رہے ، اس ملک میں تماشا بنا ہوا ہے ، ہم کس طرف جا رہے ہیں، اپنے نظام کا ہم خود مذاق بناتے ہیں۔جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیے کہ جمشید دستی رکن پارلیمنٹ رہے ہیں اور ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ جب لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تو مخالفین کی گرفتاری پر خوش ہوتے ہیں لیکن اپوزیشن میں آ کر عدالتوں کی طرف بھاگتے ہیں۔جمشید دستی نے عدالت کو بتایا کہ ان کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور انہوں نے عوام کے لیے آواز اٹھائی، جبکہ ان کی جماعت نے بھی انہیں شوکاز نوٹس جاری کیے ۔ اس پر جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے خلاف مقدمات دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ آپ جہادی ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ آیا کیس دو رکنی بینچ سن سکتا ہے یا اسے تین رکنی بینچ کو بھجوایا جائے ۔ عدالت نے ضمانت میں 4 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...