مذاق اڑانے والوں پر بھروسہ نہیں،مذاکرات کیلئے وزیراعظم خود دعوت دیں:اپوزیشن
ملک غیر جمہوری نظام کے حوالے نہیں کرینگے :اچکزئی، پی ٹی آئی کی تختیاں توڑ کر عوام کے جذبات بھڑکائے جارہے :گوہر آئین و قانون کی حکمرانی کے بغیر سیاسی بحران کا حل ناممکن : علامہ ناصر ،10 روز میں اے پی سی بلائیں گے :سلمان اکرم
پشاور،اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں،دنیا نیوز) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ حکومت اگر مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہے تو وزیراعظم خود دعوت دیں ورنہ بات چیت کا مذاق اڑانے والوں پر بھروسہ نہیں ، ہم نے سیاسی مذاکرات کیلئے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ کیا تھا ، ہماری سنجیدگی تھی کہ مولانا فضل الرحمن وزیراعظم سے ملاقات کیلئے گئے تھے ،کچھ بھی ہوجائے ہم پاکستان کو غیر جمہوری نظام کے حوالے نہیں کریں گے کیونکہ یہ غیر جمہوری نظام ملک کو توڑنے کا راستہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان ، قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس و دیگر کے ہمراہ موجودہ صورت حال پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمانی تقاریر قوموں کی تاریخ محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہوتی ہیں، پارلیمنٹ میں جو باتیں ہمارا حق ہیں ان کے لیے بھی ہمیں لڑنا پڑتا ہے ، میں نے ایک روز قبل تقریر میں کوئی غلط بات نہیں کی ،اُس تقریر میں ایک لفظ بھی ملک کے خلاف نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے ، سینکڑوں گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، ایفل ٹاؤر کو نذر آتش کیا گیا مگر مظاہرین پر گولیاں نہیں چلائی گئیں، ہم غیر جمہوری نظام کے خلاف جمہوری انداز میں لڑیں گے اور پاکستان کو بچانے کے خواہش مند ہر شہری کا فرض ہے کہ جمہوریت کیلئے کھڑا ہو، پاکستان میں طاقتور پارلیمنٹ اور اداروں کو اپنے دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔
،کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کیلئے خواجہ آصف کی سربراہی میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے ۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں ترقی کیلئے قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف ضروری ہے ، آئین اور قانون کی حکمرانی کے بغیر سیاسی بحران کا حل ممکن نہیں ، عوام کا نظام پر اعتماد بحال کرنے کیلئے عدل و انصاف ضروری ہے ، 8 فروری کو عوامی مینڈیٹ پرسب سے بڑا ڈاکا ڈالا گیا ، عوام کے ووٹ پر ڈاکا آئین اور قانون پر حملے کے مترادف ہے ۔ بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا کہ اسمبلی کے تین سال گزرنے کو ہیں ہمیں ریاست سے وفاداری کا فارمولا آج تک سمجھ نہیں آیا، ہمیں ایسے سمجھا اور برتا جاتا ہے جیسے ہم ریاست کے وفادار نہیں، یہ تصور ختم ہونا چاہیے ، حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتے کرتے ہماری حکومت چلی گئی ،پختونخوا میں تختیاں توڑ کر عوام کے دل توڑے اور نفرت بھڑکائی جا رہی ہے ، ہم پاکستان اور ریاست کے وفادار ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
، آج بانی کی اہلیہ، تین بہنیں، بھتیجا اور کزن جیل میں ہیں، دہشت گردی کو ہر صورت ختم ہونا چاہیے اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہونی چاہئیں اس جنگ کے نام پر نفرت کا بیانیہ نہ بنایا جائے ، سیاسی بنیادوں پر تبادلے اور تختیاں گرانا دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہے یا پارٹی مٹانے کی کوشش ۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا رہیں گے ، ان سے متعلق کوئی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کے بغیر نہیں ہو سکتا، جنید اکبر پی ٹی آئی پختونخوا کے صدر تھے ہیں اوررہیں گے ، شیخ وقاص اکرم، علی امین اور دیگر کو بول دیا ہے کہ اندر کی باتیں باہر نہ آئیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری فردوس شمیم نقوی نے 5 دن قبل اپنا استعفیٰ پیش کیا، میں نے استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کر کے واپس کر دیا ، علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کی خبر درست نہیں وہ اپنے گھر پر ہیں۔دریں اثناء پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے آئندہ 10 روز میں اے پی سی بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن سمیت اہم سیاسی جماعتوں سے رابطے ہیں، لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے ، مذاکرات کی ناکامی سے متعلق غلط بیانیہ بنایا گیا ، وزیرِ اعلیٰ اور سپیکرپختونخوا کو لاپتہ کیا گیا ، محمود اچکزئی بانی پی ٹی آئی کے مقرر کردہ قائد حزب اختلاف ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس ‘‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سہیل آفریدی ، بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر کے اغواء پر خاموشی ناقابلِ قبول ہے ، فوری طور پر ان کی موجودگی اور سلامتی واضح کی جائے ،پختونخوا میں مسلط ٹولے کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں تحریک انصاف کو نشانہ بنا نا ہے ، مراد سعید کے گھر چھاپے یا کارروائی کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں ، سیاسی انتقام اب بند ہونا چاہیے ۔ دوسری طرف پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے متفقہ اعلامیے میں مذاکراتی عمل میں صوبائی نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کو نمائندگی دی جائے اور علی امین گنڈاپور صوبے کی جانب سے نمائندگی کریں،مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیان اور پوسٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں، چیئرمین بیرسٹر گوہر نوٹس لیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments