سرکاری ملازم کیخلاف کارروائی کیلئے ٹھوس شواہد ضروری :آئینی عدالت
انکوائری رپورٹ میں انسپکٹر منیر احمدسامو کا مبینہ چھاپے میں ملوث ہونا ثابت نہیں ہوا تھا سندھ ہائیکورٹ نے بعد کی انکوائری رپورٹ میں درج اہم نتائج کومدنظر نہ رکھا:تحریری فیصلہ
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)کسی سرکاری ملازم کے خلاف منفی کارروائی کے لیے ٹھوس شواہد، منصفانہ انکوائری اور قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے ، جبکہ ہائیکورٹ انتظامیہ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی افسر کی تعیناتی اور محکمانہ کارروائی کے معاملات میں اس کی جگہ نہیں لے سکتی،عدالت نے پولیس افسر منیر سامو کی اپیل پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے سرکٹ کورٹ لاڑکانہ کے 30 جون 2026 کے حکم کا جائزہ لیا،جسٹس روزی خان نے تحریری فیصلہ تحریرکیا،وفاقی آئینی عدالت نے تحریری تفصیلی فیصلہ میں قرار دیا کہ انکوائری رپورٹ میں انسپکٹر منیر احمد سامو کا مبینہ چھاپے میں ملوث ہونا ثابت نہیں ہوا تھا،فیصلے کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے 16 اپریل 2026 کو معاملے کی انکوائری کا حکم دیا تھا،عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ نے بعد کی انکوائری رپورٹ میں درج اہم نتائج اور سفارشات کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا،تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت ہر شخص کو قانون کے مطابق سلوک کا حق حاصل ہے ، جبکہ آرٹیکل 10-اے منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی ضمانت دیتا ہے ،کسی افسر کے خلاف فیصلہ کرنے سے پہلے اسے اپنا مؤقف پیش کرنے اور الزامات کا جواب دینے کا مناسب موقع دیا جانا چاہئے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments