صوبائی ایپکس کمیٹی کا دہائی بعد اجلاس، ملکر آگے بڑھنے کا عزم

صوبائی ایپکس کمیٹی کا دہائی بعد اجلاس، ملکر آگے بڑھنے کا عزم

وزیراعظم ،فیلڈ مارشل کا دورہ پشاورامن کیلئے قومی قیادت کی توجہ کا اظہار 160ارب کا پیکیج،بدلتا،نکھرتا،مضبوط کے پی پروگرام ترقی کو سمت دیگا

اسلام آباد( دنیا نیوز )وزیراعظم ، فیلڈ مارشل اور سینئر وزرا کا پشاور کا دورہ محض ایک رسمی سرگرمی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا، بالخصوص ضم شدہ اضلاع کے امن، استحکام، ترقی اور قومی دھارے میں شمولیت کے لیے اعلیٰ ترین قومی قیادت کی توجہ کا اظہار ہے ۔ وزیراعظم کیزیرِ صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا ایک طویل عرصے ، تقریباً ایک دہائی سے زائد وقفے کے بعد اجلاس صوبے میں امن و امان کے معاملات کو قومی ترجیحات کے مطابق مربوط انداز میں آگے بڑھانے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے ، صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سکیورٹی اداروں اور متعلقہ حکام کے درمیان دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی، امن کے قیام اور ترقیاتی اقدامات میں ہم آہنگی کا اہم فورم ہے ۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مشترکہ موجودگی اس امر کو نمایاں کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا اور ضم شدہ اضلاع میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے قومی اہداف ہیں۔ قیادت کی جانب سے اے آر ڈی سی اور ضم شدہ اضلاع کے سینئر قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں اس بات کی اہمیت واضح کرتی ہیں کہ مقامی نمائندگی، عوامی مشاورت اور قبائلی قیادت کو ترقیاتی عمل میں مؤثر شراکت دار بنایا جائے ۔ قبائلی عمائدین سے براہِ راست رابطہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا عملی اظہار ہے کہ دیرپا امن کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد، تعاون اور شمولیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

وزیراعظم کی جانب سے ضم شدہ اضلاع کے لیے 160 ارب روپے کے خصوصی پیکیج کا اعلان، اگر مقررہ وسائل اور مؤثر نگرانی کے ساتھ نافذ ہو، تو انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، روزگار اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے اہم مالی بنیاد فراہم کر سکتا ہے ۔ ‘‘بدلتا، نکھرتا اور مضبوط کے پی’’ پروگرام کا اعلان خیبر پختونخوا کی ترقی کو ایک مربوط سمت ، عوامی ضروریات کو ترجیح دینے اور ترقیاتی اقدامات کو واضح اہداف سے منسلک کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی سرمایہ کاری کی اہمیت محض تعمیراتی منصوبوں تک محدود نہیں،اس کا تعلق روزگار کے مواقع، نوجوانوں کے مستقبل، ریاستی خدمات تک رسائی اور عوام کے اعتماد کی بحالی سے بھی ہے ۔ ضم شدہ اضلاع کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ خصوصی پیکیج کے تحت مختص رقوم کی تقسیم، منصوبوں کی تکمیل، فنڈز کے استعمال اور حاصل ہونے والے نتائج میں شفافیت اور جواب دہی یقینی بنائی جائے ۔ پشاور میں اعلیٰ قومی قیادت کی موجودگی وفاق اور صوبے کے درمیان مشترکہ ذمہ داری کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے ؛ امن و امان، انتظامی صلاحیت اور ترقیاتی ترجیحات پر مربوط عمل درآمد ہی عوام کو ٹھوس نتائج فراہم کر سکتا ہے ۔ اس دورے کی اصل کامیابی کا پیمانہ ان اعلانات کے نتیجے میں دہشت گردی میں کمی، عوامی تحفظ میں بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور ضم شدہ اضلاع کے شہریوں کے معیارِ زندگی میں قابلِ پیمائش بہتری ہوگا۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...