تربیلا ، منگلا ڈیمز، چشمہ بیراج میں سلٹنگ ، پانی ذخیرہ گنجائش 54 لاکھ ایکڑ فٹ کم
پانی ذخیرہ کی صلاحیت صرف 33دن،تربیلا ڈیم کی گنجائش 55 لاکھ 80 ہزار، منگلا کی 72 لاکھ 58 ہزار ایکڑ فٹ رہ گئی وفاقی حکومت اس وقت 18 ڈیمز تعمیر کر رہی ، مزید 14 آبی ذخائر منصوبہ بندی میں شامل ہیں ،وزارت آبی وسائل
اسلام آباد (نمائندہ دنیا)پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے تین بڑے ذخائر کی گنجائش میں مسلسل کمی ہو رہی ہے ۔ تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور چشمہ بیراج تینوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے جس کی بڑی وجہ ڈیموں میں ہونے والی سلٹنگ ہے ۔روزنامہ دنیا کو دستیاب وزارت آبی وسائل کی دستاویزات کے مطابق تربیلا، منگلا اور چشمہ کے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 54 لاکھ ایکڑ فٹ کمی آئی ہے ۔ پہلے ان تینوں بڑے آبی ذخائر کی لائیو سٹوریج کپیسٹی ایک کروڑ 86 لاکھ 46 ہزار ایکڑ فٹ تھی جو کم ہو کر 2026 میں ایک کروڑ 31 لاکھ 49 ہزار ایکڑ فٹ رہ گئی ۔تربیلا ڈیم کی گنجائش پہلے 96 لاکھ 92 ہزار ایکڑ فٹ سے زائد تھی جو کم ہو کر 2026 میں 55 لاکھ 80 ہزار ایکڑ فٹ رہ گئی ۔ منگلا ڈیم کی ابتدائی گنجائش 58 لاکھ ایکڑ فٹ سے زائد تھی جسے 2012 میں بڑھا کر 82 لاکھ ایکڑ فٹ کر دیا گیا تھا تاہم 2026 میں یہ گنجائش کم ہو کر 72 لاکھ 58 ہزار ایکڑ فٹ رہ گئی۔
وزارت آبی وسائل کے مطابق ملک میں قومی سطح پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 33 دنوں کی ہے یعنی پاکستان بیک وقت 33 دنوں کے لیے پانی ذخیرہ کر سکتا ہے ۔ پاکستان سالانہ 14 کروڑ 18 لاکھ ایکڑ فٹ پانی حاصل کرتا ہے جو دریائے سندھ، جہلم، چناب، کابل، راوی، ستلج اور بیاس سے حاصل کیا جاتا ہے ۔وزارت آبی وسائل کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر ملک کو سیلابوں اور خشک سالی سے بچانے کے لیے نئے آبی ذخائر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اس وقت 18 ڈیمز تعمیر کر رہی ہے جن پر ایک ہزار 41 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ اس کے علاوہ مزید 14 آبی ذخائر کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور ان کے ڈیزائن پر کام جاری ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments