لاپتہ بچیوں کی بازیابی میں تاخیر : چیف جسٹس ہائیکورٹ پولیس افسروں پر برہم، آئی جی طلب
پولیس افسر عوام کی خدمت کے بجائے ٹک ٹاک بنانے میں مصروف ، ذاتی تشہیر کرنیوالوں نے کام کیا کرنا :ریمارکس پنجاب میں 2 ہزار 810 بچیوں کو بازیاب کرایا جا چکا ،452 بچیوں کی بازیابی تاحال باقی :رپورٹ عدالت میں پیش
لاہور (کورٹ رپورٹر) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے لاپتہ بچیوں کی بازیابی میں تاخیر پر پولیس افسروں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کو 11 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پولیس افسر عوام کی خدمت کے بجائے ٹک ٹاک بنانے میں مصروف ہیں، ذاتی تشہیر کرنے والوں نے کام کیا کرنا ہے ۔ پنجاب میں 452 بچیوں کی بازیابی تاحال باقی ہے ، جبکہ 2021 سے لاپتہ 4 بچیوں کا بھی سراغ نہیں مل سکا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سلمیٰ بی بی کی جانب سے اپنی بیٹی مقدس بی بی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت پنجاب حکومت کے لاء افسران نے لاپتہ بچیوں کی بازیابی سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں مجموعی طور پر 2 ہزار 810 بچیوں کو بازیاب کرایا جا چکا ہے ، جبکہ 452 بچیوں کی بازیابی تاحال باقی ہے ۔ 2021 سے لاپتہ4بچیوں کا بھی ابھی تک سراغ نہیں مل سکا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دئیے کہ 2021 کے کیسز میں 4بچیاں ابھی تک لاپتہ ہیں، انہیں کہاں تلاش کریں گے ؟ ہم 2026 میں بیٹھے ہیں اور ابھی تک پرانے کیسز حل نہیں ہوئے ، کیا 2024 کے کیسز کو 2032 میں بھی دیکھنا ہے ؟۔ عدالت نے لاپتہ بچیوں کی بازیابی کیلئے کیے جانے والے اقدامات اور پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ۔ چیف جسٹس نے پنجاب پولیس کے افسروں کی جانب سے ٹک ٹاک بنانے اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کرنے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ خواتین کی بازیابی کیلئے قائم ٹیم کا سربراہ خود مصروف رہتا ہے ، وہ کام کیسے کرے گا؟ وہ صاحب تو ٹک ٹاک بناتے رہتے ہیں، انہوں نے کام کب کرنا ہے ؟ کیا پولیس افسروں کا ٹک ٹاک بنانا اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کرنا سروس رولز میں شامل ہے ؟ کیا پولیس افسروں کو ٹک ٹاک بنانے کی اجازت ہے ؟، جو شخص سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی نمائش کرتا رہے ، اس نے سرکاری ذمہ داریاں کیا ادا کرنی ہیں؟ ۔
اس موقع پر ڈی آئی جی کرائم نے عدالت کو بتایا کہ اب پولیس یونیفارم میں کوئی ٹک ٹاک نہیں بناتا، اگر ایسی کوئی ویڈیو سامنے آئے تو متعلقہ افسر کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی ہے ۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے بھی متعدد لاپتہ خواتین کو تلاش کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زیادہ تر لاپتہ خواتین کے کیسز کن علاقوں سے سامنے آئے ہیں؟۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ زیادہ تر کیسز راولپنڈی، سیالکوٹ اور ننکانہ صاحب سے تعلق رکھتے ہیں۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ہدایت کی کہ لاپتہ بچیوں کی بازیابی کیلئے قائم ٹیم کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے ۔ عدالت نے آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے اور پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 11 نومبر تک ملتوی کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments