ٹرمپ پر ایران کے خلاف جنگ سے نکلنے کا دباؤ بڑھ رہا

 ٹرمپ پر ایران کے خلاف جنگ سے نکلنے کا دباؤ بڑھ رہا

ایران کیلئے بھی اچھا موقع مذاکرات کی بحالی کی طرف آئے اور فائدہ اٹھائے

(تجزیہ:سلمان غنی)

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ اور ری پبلکن کو ہونے والی شکست کے بعد امریکا ایران جنگ کا تسلسل اور مستقبل خبروں میں غالب ہے اور خصوصاً امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے اسرائیل سے امریکی تعلقات پر نظرثانی اور وسط مدتی انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ ایران سے جنگ کو قرار دینے کو جنگ کے خاتمہ کی طرف واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے اور اب بڑا سوال یہی امریکا کے سامنے کھڑا ہے کہ کیا امریکا اب بھی ایران کیخلاف جنگی صورتحال جاری رکھے گا۔ خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اب صدر ٹرمپ سے فاصلہ پر کھڑے نظر آ رہے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ 2024 میں جن لوگوں نے صدر ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا انہوں نے اس دفعہ ڈیمو کریٹک امیدواروں کو ووٹ دیا کیونکہ وہ صدر ٹرمپ سے ناراض تھے اور جے ڈی وینس کے مطابق جب جماعت کے پرانے تجربہ کار رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی غلط سمت جا رہی ہے تو ٹرمپ نے ان کی بات ان سنی کر دی اور ایسے  افراد کو اپنے قریب تر رکھا جن کو امریکا کی سیاست کے محرکات کا علم نہیں تھا، تو اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا صدر ٹرمپ اس جنگ کا تسلسل قائم رکھ پائیں گے۔

کانگریس میں اب ڈیمو کریٹس کے غلبہ کے بعد صدر ٹرمپ اگر حملوں کا تسلسل جاری رکھتے ہیں تو کانگریس ان جنگی اخراجات کے بل کو منظور نہیں کرے گی،شکست کے بعد ایران کیلئے بھی اچھا موقع ہے کہ وہ اپنی فتح کے اعلان کے ساتھ پھر سے مذاکراتی عمل کی بحالی کی طرف آئے اور اس موقع کا فائدہ اٹھائے اور خود صدر ٹرمپ کی انتظامیہ بھی اس جنگ سے نکلنے کا موقع حاصل کر پائے گی کیونکہ ابھی صدر ٹرمپ اور ری پبلکن کیلئے 2028 کے انتخابات کا چیلنج کھڑا ہوگا اور وہ اب یہ نہیں چاہیں گے کہ وہ ایران سے جنگ کی مزید قیمت سیاسی محاذ پر چکائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی صدارت کے آخری دو سال کیا کانگریس سے جھگڑوں میں گزریں گے اور انہیں اپنی مدت صدارت کے پہلے دو برسوں میں جس مہم جوئی کا موقع ملا تھا اب شاید ممکن نہ بن سکے ،ویسے بھی ڈیمو کریٹک پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے واضح کر دیا ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وہ ٹرمپ کو عدالت کے کٹہرے میں لائیں گے ،گو کہ صدر ٹرمپ کو غیر معمولی اختیارات کے تحت ویٹو کاحق حاصل ہے اور اب کے ویٹو کے حق پر اثر انداز ہونے کیلئے کانگریس کی دو تہائی کی اکثریت لازم ہوتی ہے ۔ لہٰذا صدر ٹرمپ اپنے روایتی انداز میں کانگریس کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے ،لیکن ڈیمو کریٹس صدر ٹرمپ پر اثر انداز ہونے اور انہیں دفاعی محاذ پر لانے کیلئے ان کے خاندان کے اراکین جن پر بدعنوانی کے مقدمات ہیں ان کی تحقیقات شروع کرا سکتے ہیں اور اس حوالہ سے صدر ٹرمپ اور کانگریس کے درمیان چپقلش ناگزیر ہوگی ۔ امریکی میڈیا میں شائع رپورٹس میں یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جنگ نے امریکا کے انتخابات کو اپ سیٹ کیا ہے ۔ صدر ٹرمپ پر ایران کیخلاف جنگ سے نکلنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے ،اگر صدر ٹرمپ ایران کے خلاف پسپائی کیلئے تیار نہ ہوئے تو پھر ایک مرتبہ ری پبلکن کو 2028 کے انتخابات میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...