کام کے اوقات میں اضافہ سے موٹاپے میں بھی اضافہ
سڈنی(نیٹ نیوز)نئی تحقیق کے مطابق خراب ورک لائف بیلنس وزن کم رکھنے کی کوشش کو مشکل بنا سکتا ہے جبکہ زیادہ دیر تک کام کرنے والے افراد میں موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔
محققین کا کہنا ہے کہ دفتر کی کرسی پر زیادہ وقت گزارنے کا مطلب اکثر ورزش کے لیے کم وقت بچنا ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ طویل اوقاتِ کار ذہنی دباؤ بڑھاتے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں جبکہ جسم میں کورٹیسول ہارمون کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے اور یہ دونوں عوامل وزن میں اضافے سے جڑے ہوئے ہیں۔آسٹریلیا کی ڈاکٹر پرادیپا کوریل گیدارا کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگر سالانہ کام کے اوقات میں صرف 1 فی صد کمی کر دی جائے تو موٹاپے کی شرح میں اوسطاً 0.16 فی صد کمی دیکھی جا سکتی ہے ۔