پولیس اہلکاروں پر مسافروں سے لوٹ مار کا الزام
مسافر اڈوں پر تلاشی کے بہانے پردیسیوں سے نقدی اور قیمتی سامان چھیننے کے واقعات ہو رہے ،ملوث اہلکاروں کیخلاف شفاف انکوائری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ
فیصل آباد (سٹی رپورٹر)فیصل آباد میں ڈکیتی، چوری اور راہزنی کی بڑھتی وارداتوں کے ساتھ بعض پولیس اہلکاروں پر بھی مبینہ طور پر شہریوں سے لوٹ مار کے الزامات سامنے آنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسافر اڈوں پر تلاشی کے بہانے پردیسیوں سے نقدی اور قیمتی سامان چھیننے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاری اڈے ، جی ٹی ایس اور دیگر مسافر اڈوں کے اطراف مبینہ طور پر پولیس اہلکار مسافروں کو روک کر انہیں ہراساں کرتے اور نقدی و موبائل فون چھین لیتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ تھانہ سول لائن کے علاقے میں مارچ 2025 میں پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔متاثرہ شہری وسیم، جو کہ ملتان کا رہائشی ہے ، نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ پرانے کپڑوں کی خریداری کے سلسلے میں فیصل آباد آیا تھا کہ لاری اڈے کے قریب مبینہ طور پر چوکی کے ایک اہلکار اور اس کے ساتھی نے اسے روک کر تلاشی کے بہانے اس سے شناختی کارڈ، ڈھائی لاکھ روپے سے زائد نقدی اور موبائل فون لے لیا اور اسے ہراساں کیا۔متاثرہ شہری کے مطابق واقعہ کے بعد مبینہ طور پر اصل معاملہ چھپانے کے لیے اس کے مرحوم بھائی غلام مصطفی کے نام سے دفعہ 356 کے تحت ایک مقدمہ درج کر لیا گیا، حالانکہ اس کے بھائی کو فوت ہوئے تین سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔
شہری کا دعویٰ ہے کہ واقعہ کی سی سی ٹی وی ویڈیو اس کے موبائل میں موجود تھی جسے مبینہ طور پر حذف کر دیا گیا، اس نے مزید الزام عائد کیا کہ اس کا شناختی کارڈ بھی بلاک کروا دیا گیا اور جب وہ شکایت درج کروانے کے لیے اعلیٰ پولیس حکام کے دفاتر پہنچا تو اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ مبینہ تشدد کے باعث اس کی سماعت بھی متاثر ہوئی ہے ۔متاثرہ شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف شفاف انکوائری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور اسے فوری انصاف فراہم کیا جائے ۔