انتظامیہ ناکام، ٹرانسپورٹرز کی لوٹ مار من مانے کرائے
30 سے 50 فیصد اضافہ کیا گیا ، عید کے دنوں میں اوورلوڈنگ بھی معمول بنی رہی
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )عیدالفطر سے قبل اور عید کے تینوں روز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کھلم کھلا لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا۔ سرکاری کرایہ ناموں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسافروں سے من مانے اضافی کرائے وصول کیے گئے جبکہ انتظامیہ کے بلند و بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔کرایوں میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ کیا گیا جبکہ کئی روٹس پر اس سے بھی زیادہ وصولی کی گئی۔ عید کے تینوں روز انتظامی افسران کے دعوؤں کے برعکس زائد کرایوں کی وصولی جاری رہی اور اوورلوڈنگ بھی معمول بنی رہی، مگر چیکنگ کا کوئی مؤثر نظام نظر نہ آیا۔دوسری جانب ریلوے کا نظام بھی بری طرح ناکام دکھائی دیا۔ ٹرینوں کی آمد و روانگی میں غیر معمولی تاخیر نے مسافروں کو اذیت میں مبتلا کیے رکھا۔ طویل انتظار کے باوجود ٹرینوں کا نہ پہنچنا معمول بن گیا جس کے باعث شہریوں کو شدید ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹرینوں کی مسلسل تاخیر اور بدنظمی کے باعث مسافروں کی بڑی تعداد نے مجبورا بسوں کا رخ کیا، جہاں پہلے سے موجود رش اور کرایوں میں اضافے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ ٹرانسپورٹرز نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے رہے ۔ضلعی انتظامیہ اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے کیے گئے خصوصی اقدامات اور مانیٹرنگ کے دعوے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ۔ نہ کرایہ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکا اور نہ ہی زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی سامنے آئی۔ چند نمائشی کارروائیوں کے علاوہ بیشتر بس اڈوں پر چیکنگ کا فقدان رہا اور مسافر بے بسی کی تصویر بنے رہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے انہیں ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا انتہائی افسوسناک ہے ۔