اقلیتی بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی کے واقعات پر تشویش

 اقلیتی بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی کے واقعات پر تشویش

اقلیتیں ملک کا برابر کا حصہ ،آئین کے مطابق حقوق فراہم کیے جائیں:مینارٹی الائنس

فیصل آباد (نیوز رپورٹر)آل پاکستان مینارٹی الائنس کے عہدیداروں نے کم سن اقلیتی بچوں اور بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی اور شادیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔چیئرمین اکمل بھٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عہدیداروں نے کہا کہ اقلیتیں اس ملک کا برابر کا حصہ ہیں اور انہیں آئین کے مطابق مساوی حقوق فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بااثر عناصر کی جانب سے کم سن اقلیتی بچیوں کو مبینہ طور پر زبردستی مذہب تبدیل کروانے کے واقعات قابل مذمت اور تشویشناک ہیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خواتین سے متعلق ریڈ لائن پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اقلیتی بچیوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب اینٹی ہراسمنٹ مہمات چلائی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب اقلیتی خاندانوں کی بچیوں کے اغوا اور جبری مذہب تبدیلی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔آل پاکستان مینارٹی الائنس کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اسمبلیوں میں اقلیتی نمائندے اس مسئلے کو مؤثر انداز میں اٹھائیں، جبکہ حکومت اس حساس معاملے کے حل کیلئے عملی اور مثبت اقدامات کرے تاکہ اقلیتوں کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں