کم عمر بچوں میں ویپنگ کا بڑھتا رجحان، ماہرین کی تشویش
13 سے 15 سال کی عمر کے بچوں میں رجحان بڑھنے سے مسائل ہو نگے
چناب نگر (نامہ نگار)شہر میں نوجوانوں، خصوصاً کم عمر بچوں میں ای سگریٹس (ویپنگ) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر سماجی، تعلیمی اور طبی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق 13 سے 15 سال کی عمر کے بچوں میں اس رجحان کا تیزی سے پھیلنا مستقبل میں صحت کے سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے ۔سماجی حلقوں نے ای-سگریٹس کو ‘‘میٹھا دھواں، کڑوا انجام’’ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بظاہر جدید اور کم نقصان دہ نظر آنے والی یہ عادت درحقیقت نوجوانوں کو نکوٹین کی لت میں مبتلا کر رہی ہے ، جو بعد ازاں روایتی تمباکو نوشی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے ۔طبی ماہرین کے مطابق نوعمر بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما ابھی مکمل نہیں ہوتی، ایسے میں ای-سگریٹس کا استعمال پھیپھڑوں، دل اور دماغ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ویپنگ کے بخارات میں مضر کیمیکلز اور زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں، جو طویل مدت میں خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔شہری حلقوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ ای-سگریٹس کو دلکش فلیورز، رنگین پیکنگ اور جدید طرزِ تشہیر کے ذریعے نوجوانوں میں مقبول بنایا جا رہا ہے ، جس سے کم عمر بچوں میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔سماجی شخصیات نے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ای-سگریٹس کی فروخت اور تشہیر پر سخت نگرانی کی جائے ۔