ناپ تول میں کمی کی شکایات ، محکمے خاموش
ویٹس اینڈ میژرز ونگ مبینہ غیرفعال ،شہریوں کے ڈی او انڈسٹریز کی کارکردگی پر سوالات ،غفلت برتنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے : شہری
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )ضلع بھر میں ویٹس اینڈ میژرز ونگ کی مبینہ غیرفعال کارکردگی کے باعث کم ناپ تول کرنے والوں کو کھلی چھوٹ ملنے کا انکشاف ہوا ہے ، جبکہ شہریوں نے ڈی او انڈسٹریز کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور درست ناپ تول کو یقینی بنانا محکمہ انڈسٹریز کے ویٹس اینڈ میژرز ونگ کی ذمہ داری ہے ۔ ونگ کو پٹرول پمپس، کریانہ سٹورز، سبزی و فروٹ، گوشت، دودھ دہی کی دکانوں اور دیگر کاروباری مراکز میں وزن اور پیمائش کی جانچ، سرپرائز انسپکشنز، خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف مقدمات کے اندراج، جرمانوں اور غیر معیاری پیمائشی آلات کی ضبطگی کے اختیارات حاصل ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ گلی محلوں میں ریڑھی بانوں سے لے کر بڑے کاروباری مراکز اور پٹرول پمپس تک کم ناپ تول کی شکایات عام ہیں، مگر محکمہ انڈسٹریز کی کارروائیاں نظر نہیں آتیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ برسوں سے کسی بڑے کاروباری مرکز یا پٹرول پمپ کے خلاف نمایاں کارروائی سامنے نہیں آئی، جس سے قانون شکن عناصر کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ عام لوگوں کو محکمہ انڈسٹریز کے دفتر، ذمہ داریوں اور شکایات کے طریقہ کار سے متعلق مناسب آگاہی نہیں، جبکہ مارکیٹوں میں بھی اس محکمے کی سرگرمیاں دکھائی نہیں دیتیں۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ویٹس اینڈ میژرز ونگ کی کارکردگی کا فوری جائزہ لیا جائے ، خصوصی انسپکشن مہم چلائی جائے اور فرائض میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے تاکہ صارفین کے حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔دوسری جانب رابطہ کرنے پر ڈی او انڈسٹریز محمد عرفان نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 146 انسپکشنز کی گئیں، جن میں 7 مقامات پر خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کو مجموعی طور پر 25 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔تاہم رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک کروڑ آبادی والے شہر میں صرف 146 انسپکشنز اور 7 خلاف ورزیوں کا سامنے آنا محکمہ کی کارکردگی پر کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔