ایکسائزآفس میں مبینہ کرپشن، جعلی ٹیکس چالان
بعض افسرجعلی بھاری مالیت کے ٹیکس چالان جاری کرکے ہراساں کرتے اور بعد ازاں رشوت لے کر ٹیکس کی رقم کم کرنے کا جھانسہ دیتے ہیں ،قانونی کارروائی کی دھمکیاں
فیصل آباد (عبدالباسط سے ) محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فیصل آباد میں حکام کی مبینہ عدم دلچسپی اور ملی بھگت کے باعث کرپشن کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پراپرٹی ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس، موٹر وہیکل ٹیکس سمیت مختلف برانچوں میں تعینات بعض افسران اور ملازمین شہریوں کو مبینہ طور پر جعلی اور بھاری مالیت کے ٹیکس چالان جاری کرکے ہراساں کرتے اور بعد ازاں رشوت لے کر ٹیکس کی رقم کم کرنے کا جھانسہ دیتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ سے زائد آبادی والے صنعتی شہر فیصل آباد میں بعض اہلکار سادہ لوح ٹیکس گزاروں کو بھاری مالیت کے ٹیکس واؤچر ارسال کرتے ہیں اور پراپرٹی سیل کرنے یا قانونی کارروائی کی دھمکیاں دے کر دباؤ ڈالتے ہیں۔ بعد ازاں مبینہ طور پر ٹاؤٹ مافیا کے ذریعے معاملات طے کرکے اصل واجب الادا رقم کے نئے چالان جاری کیے جاتے ہیں جبکہ اضافی رقم رشوت کی صورت میں وصول کر لی جاتی ہے ۔ذرائع کے مطابق پروفیشنل ٹیکس اور موٹر وہیکل ٹیکس برانچوں میں بھی شہریوں کو مختلف حربوں سے ہراساں کرکے غیر قانونی رقوم وصول کرنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ متاثرہ شہری متعدد بار متعلقہ حکام کو شکایات بھی درج کرا چکے ہیں، تاہم ان کے بقول مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر وصول کی جانے والی غیر قانونی رقوم مختلف سطحوں پر تقسیم کی جاتی ہیں، جس کے باعث بدعنوانی میں ملوث عناصر محکمانہ اور قانونی کارروائی سے محفوظ رہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مختلف خفیہ اداروں اور اینٹی کرپشن کی جانب سے بھی ماضی میں کارروائیاں کی جا چکی ہیں، تاہم مبینہ طور پر بااثر تعلقات رکھنے والے افراد سخت قانونی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فیصل آباد میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ٹیکس گزاروں کو درپیش مسائل کا مستقل حل یقینی بنایا جائے ۔ادارتی نوٹ: خبر میں شامل الزامات ذرائع اور متاثرہ شہریوں سے منسوب ہیں۔ متعلقہ محکمہ یا حکام کا مؤقف دستیاب نہ ہونے کے باعث شامل نہیں کیا جا سکا۔ صحافتی توازن کے لیے مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی شائع کیا جانا چاہیے ۔