چائلڈ لیبر خاتمہ کے دعوے درست ثابت نہ ہوسکے، کم عمر بچوں سے مشقت کا سلسلہ جاری

چائلڈ لیبر خاتمہ کے دعوے درست ثابت نہ ہوسکے، کم عمر بچوں سے مشقت کا سلسلہ جاری

آٹو ورکشاپس، ویلڈنگ شاپس، مکینک کی دکانوں، چائے کے ڈھابوں، ہوٹلوں، جنرل سٹورز ،چھوٹے صنعتی یونٹس میں بچے کام کر رہے ،بعض مقامات پر بچے خطرناک مشینری کے قریب کام کر رہے

فیصل آباد (خصوصی رپورٹر) شہر اور گردونواح میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے حکومتی دعوؤں کے باوجود دکانوں، ورکشاپس، چائے کے ڈھابوں، ہوٹلوں، بھٹہ خشت، کارخانوں اور مختلف فیکٹریوں میں کم عمر بچوں سے مشقت لینے کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ محکمہ لیبر، ضلعی انتظامیہ اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی کارروائیاں صورتحال کے مطابق مؤثر دکھائی نہیں دیتیں۔ آٹو ورکشاپس، ویلڈنگ شاپس، مکینک کی دکانوں، چائے کے ڈھابوں، ہوٹلوں، جنرل سٹورز اور چھوٹے صنعتی یونٹس میں کم عمر بچوں سے مشقت لی جا رہی ہے۔

بعض مقامات پر بچے حفاظتی انتظامات کے بغیر خطرناک مشینری کے قریب کام کرتے ہیں، ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں کی جانب سے وقتاً فوقتاً کارروائیوں کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم کئی علاقوں میں طویل عرصے سے مؤثر انسپکشن یا کریک ڈاؤن دیکھنے میں نہیں آیا، سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غربت، مہنگائی اور والدین کی کم آمدن بچوں کو مزدوری پر مجبور کرنے کی اہم وجوہات ہیں، تاہم قانون پر عملدرآمد کرانا، بچوں کو تعلیم، تحفظ اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے ۔ شہریوں نے کمشنر ، ڈپٹی کمشنر، محکمہ لیبر اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سے مطالبہ کیا ہے کہ خصوصی سروے کرایا جائے ، کم عمر بچوں سے مشقت لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور متاثرہ بچوں کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں