محکمہ صحت فیصل آباد میں 35 لاکھ کی مبینہ خوردبرد، پی اے سی کے سخت سوالات، رپورٹ طلب
آپ سے پوچھتے کچھ ہیں اور آپ جواب کچھ اور دیتے ہیں،نائب قاصد کی سطح کا ملازم اکیلا اتنی بڑی مالی بے ضابطگی کیسے کرسکتا ہے ، اس کے پیچھے کوئی بااثر شخص یا دیگر ذمہ داران بھی ہوسکتے : چیئرمین کمیٹی کی ای او ہیلتھ ڈاکٹر محمد شہزاد کی سرزنش
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے ) محکمہ صحت فیصل آباد میں 35 لاکھ روپے کی مبینہ خوردبرد کا معاملہ پنجاب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں زیر بحث آگیا۔ چیئرمین کمیٹی ملک تنویر اسلم اعوان نے محکمہ صحت کے افسروں کی بریفنگ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سی ای او ہیلتھ فیصل آباد ڈاکٹر محمد شہزاد محمود کی سرزنش کردی اور سیکرٹری صحت سے مکمل انکوائری رپورٹ طلب کرلی۔آڈٹ اعتراض کی سماعت کے دوران سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر محمد شہزاد محمود نے کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ نائب قاصد کو معطل کیا گیا تھا اور تقریباً پانچ سال بعدخوردبرد کی گئی 35 لاکھ روپے کی رقم واپس وصول کرلی گئی ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے پوچھتے کچھ ہیں اور آپ جواب کچھ اور دیتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نائب قاصد کی سطح کا ملازم اکیلا 35 لاکھ روپے کی اتنی بڑی مالی بے ضابطگی کیسے کرسکتا ہے ، اس کے پیچھے کوئی بااثر شخص یا دیگر ذمہ داران بھی ہوسکتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری صحت سے سوال کیا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کا معیار کیا ہے ۔ کمیٹی کی کارروائی میں محکمہ صحت کے مالیاتی اور انتظامی نظام پر بھی سوالات اٹھائے گئے کہ ایک نچلے درجے کے ملازم کو سرکاری رقم تک اتنی بڑی رسائی کیسے ملی، خوردبرد کا بروقت سراغ کیوں نہ لگایا جاسکا اور رقم کی واپسی میں تقریباً پانچ سال کیوں لگ گئے ۔ سی ای او ہیلتھ نے بتایا کہ مذکورہ نائب قاصد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments