جامکے چٹھہ کا تاریخی ریلوے سٹیشن بھوت بنگلہ بن گیا

جامکے چٹھہ کا تاریخی ریلوے سٹیشن بھوت بنگلہ بن گیا

جامکے چٹھہ (نامہ نگار)محکمہ ریلوے کی نا اہلی اورغفلت اور حکومتی عدم دلچسپی اور افسروں کی چشم پوشی سے ماضی میں لاکھوں روپے ماہانہ ریونیو فراہم کرنے والا جامکے چٹھہ کا تاریخی ریلوے سٹیشن کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک 2025 میں بھی گزر گیا ،

ایک بھی ٹرین کا سٹاپ بحال نہ ہو سکا 15سال سے کسی ٹرین کا سٹاپ نہ ہونے کے باوجود ملازمین لاکھوں تنخواہیں وصول کر رہے ہیں جبکہ سٹیشن بھوت بنگلہ بن چکاہے ۔ جا مکے چٹھہ ریلوے سٹیشن کی بنیاد 1891میں رکھی گئی جبکہ عمارت 1897میں تیار کی گئی ، خوبصورت تا ریخی عمارت ریلوے سٹینڈ ،مال گودام ،بتی گودام 8لگژری میل فی میل انتظار گا ہیں اور پھا ٹک کے سا تھ ملا زمین کی پختہ رہا ئشگاہیں اب محکما نہ غفلت کی داستان پیش کر رہے ہیں ۔2010میں اس سٹیشن پر 6پسنجر اور ایک اکا نومی ٹر ین رکتی تھی اور اس وقت اسکی ما ہا نہ انکم لاکھوں تک تھی جبکہ مال برداری کے حسا ب سے اس سٹیشن کا شمار وزیرآباد تا فیصل آ باد ریلوے ٹر یک پر پہلے 10منا فع بخش ریلوے سٹیشنز میں ہوتا تھا ۔سو ل سو سا ئٹی کے ہر ممکن تعاو ن کا یقین دلانے کے باوجود بھی سٹیشن سٹا پ کی بحا لی نہ ہو سکی جامکے چٹھہ اور گردونواح کے 40سے زائد دیہاتوں کے لاکھوں شہری سستی اور پرسکون سفری سہولت سے محروم ہیں ۔علاقہ مکینوں نے تاریخی سٹیشن کی عمارت کو بحال اورٹرینوں کا فوری سٹاپ دینے کامطالبہ کیاہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں