سیالکوٹ :لاکھوں ورکرز سوشل سکیو رٹی رجسٹریشن سے محروم
5 لاکھ میں سے صرف 70 ہزار رجسٹرڈ ، ہسپتال میں سہو لیات کم کر دی گئیں :محمد علی
سمبڑیال(نامہ نگار )پاکستان ورکررز فیڈریشن سنٹرل پنجاب کے وائس چیئر مین محمد علی بٹ نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں پانچ لاکھ ورکررز مختلف فیکٹریوں میں کام کر رہے ہیں مگر سوشل سکیو رٹی میں 70 ہزار ورکرز رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف دورہ سمبڑیال کے موقع پر صحافیوں سے ملاقات میں کرتے ہوئے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ سیالکوٹ پاکستان کی ایکسپورٹ کا حب ہے اور یہاں کے ورکررز دن رات مختلف فیکٹریوں میں کام کر کے ایکسپورٹ کارگو تیار کرتے ہیں مگر ان کو سوشل سکیورٹی میں رجسڑڈ نہ کرا کر حکومت کی طرف سے ملنے والی سہولیات سے محروم رکھنا کہاں کا انصاف ہے۔
تو اور سوشل سکیورٹی ہسپتال پہلے 100 بیڈ پر مشتمل تھا مگر اس کو پچاس بیڈ کا کر دیا گیا اور اوپر سے اس ہسپتال میں ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف میں بھی کمی کر دی گئی حالانکہ اس ہسپتال میں ورکررز اور ان کے بچوں کو مکمل میڈیکل سہولیات فراہم کی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے اس پلیٹ فارم سے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گروپ انشورنس 20 لاکھ روپے کی جائے ، ڈیتھ گرانٹ، میرج گرانٹ، سکالر شپ گرانٹ میں بھی اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ مریم نواز راشن کارڈ کا نام تبدیل کر کے مزدور کارڈ رکھا جائے جبکہ نئی لیبر کالونی تعمیر کی جائے ۔