پی پی 36 کے 20 مراکز صحت طبی سہولیات سے محروم
آؤٹ سورسنگ کے بعد صورتحال مزید ابتر،شہری مہنگے پرائیویٹ علاج پر مجبور
علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر )حلقہ پی پی 36 کے 20 مراکز صحت طبی سہولیات سے محروم، چاردیواری کھنڈر اور یونٹس جنگل کا منظر پیش کرنے لگے ، آؤٹ سورسنگ کے بعد صورتحال مزید ابتر،شہری مہنگے پرائیویٹ علاج پر مجبور، متاثرین سراپا احتجاج بن گئے ۔ تحصیل علی پورچٹھہ اور حلقہ پی پی 36 میں قائم بنیادی و دیہی مراکز صحت عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دینے لگے ،حلقہ کی 16 یونین کونسلوں میں قائم 16 بنیادی مراکز صحت اور 4 رورل ہیلتھ سنٹرز اس وقت زبوں حالی، عملے کی عدم دستیابی، ادویات کے فقدان اور ناقص انتظامات کے باعث مریضوں کیلئے درد سر بن چکے ہیں جبکہ جامکے چٹھہ رورل ہیلتھ سنٹر تاحال آؤٹ سورس نہ ہو سکا ۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ مراکز صحت کو آؤٹ سورس کرنے کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی ،متعدد مراکز میں نہ تو ڈاکٹر دستیاب ہیں، نہ معیاری ادویات جبکہ طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ شہریوں کے مطابق ایک طرف سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب آؤٹ سورس اداروں کے مالکان کو بھی لاکھوں روپے ماہانہ د ئیے جا رہے ہیں مگر مریضوں کو بنیادی طبی سہولیات میسر نہیں ، متعدد مراکز صحت کی چاردیواری ٹوٹ پھوٹ کا شکار جبکہ احاطوں میں کوڑا کرکٹ کرکے ڈھیر ، جھاڑیاں اور خودرو پودے اگے ہوئے ہیں۔