تاجروں کی مطالبات کی منظوری کیلئے 3 دن کی ڈیڈ لائن
لاک ڈائون کے نام پر کارو بار تباہ کر دیا ،رشوت نہ دینے پر مقدمات بنائے جا رہے اشرافیہ کی مراعات، پروٹوکول کا بوجھ بھی ہم پر ،کاشف چودھری،دیگر کی پریس کانفرنس
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چودھری نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں’’کاروبار دشمن‘‘قرار دیاہے اور کہا ہے کہ موجودہ حالات میں تاجروں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور انہیں ریاست کے خلاف کھڑا ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروباری اوقات کار رات 10بجے تک اور ریسٹورنٹس 12 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دی جائے جبکہ عید کے موقع پر لاک ڈاؤن مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ انہوں نے سیاحتی مقامات کو فوری طور پر لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ قرار دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے سے وابستہ کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور تاجر دیوالیہ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے حکومت کو تین دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر \"انوکھا احتجاج\" شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار شٹر ڈاؤن ہڑتال نہیں کی جائے گی بلکہ زبردستی مارکیٹیں کھولی جائیں گی اور اگر تاجروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تو متعلقہ تھانوں کا گھیراؤ کیا جائے گا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف سرکاری اتھارٹیز کو \"بھتہ خوری کا ذریعہ\" بنا دیا گیا ہے اور خاص طور پر پنجاب میں پیرا اتھارٹی پر رشوت اور ہراسانی کے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رشوت نہ دینے والے تاجروں کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں، جو ناقابل قبول ہے ،وفاق اور صوبوں کے باہمی اختلافات کا بوجھ تاجروں پر ڈال دیا گیا ہے جبکہ حکمران اشرافیہ کی مراعات اور پروٹوکول کا بوجھ بھی کاروباری طبقے کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد کے سارے تاجر رہنما بھی موجود تھے۔