کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک میں مزید بہتری کا فیصلہ
انتظامی اور مالی طور پر مزید بااختیار بنایا جائے گا،چڑیا گھر میں جھولوں اور اینیمل انکلوژرز کو الگ الگ کرنے کی ہدایت وائلڈ لائف ویلفیئر کے حوالے سے سہولیات کو مزید بہتراور جانوروں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ، میئر
کراچی(آئی این پی)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں محکمہ ریکریشن کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں شہر کے تفریحی مقامات بالخصوص کراچی زو اور سفاری پارک کی بہتری اور وائلڈ لائف ویلفیئر کے حوالے سے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں میونسپل کمشنر کے ایم سی سمیرا حسین، مشیرِ مالیات گلزار ابڑو، سینئر ڈائریکٹر محکمہ ریکریشن اخلاق احمد یوسفزئی، ڈائریکٹر میڈیا دانیال سیال اور دیگر افسران نے شرکت کی،اجلاس میں متعلقہ افسران نے ادارے کی کارکردگی اور جاری منصوبوں پر بریفنگ دی۔
میئر کراچی نے ہدایت کی کہ وائلڈ لائف ویلفیئر کے حوالے سے سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے اور جانوروں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ، انہوں نے کہا کہ وائلڈ لائف کے حقوق کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے اور ان کے بہتر ماحول کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں،اجلاس میں کراچی زو اور سفاری پارک کو انتظامی اور مالی طور پر مزید بااختیار بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ ان اداروں کو خودمختار انداز میں چلایا جاسکے اور آمدنی میں اضافہ کرکے سہولیات کو بہتر بنایا جاسکے ، میئر کراچی نے کہا کہ ان دونوں مقامات پر حالیہ تبدیلیوں کو پورے شہر نے محسوس کیا ہے تاہم عوام کو مزید معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
میئر کراچی نے کراچی زو میں جھولوں اور اینیمل انکلوژرز کو الگ الگ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تفریحی سرگرمیوں اور جانوروں کے رہائشی حصوں کو علیحدہ رکھنے سے نہ صرف نظم و ضبط بہتر ہوگا بلکہ جانوروں کو بھی پرسکون ماحول میسر آئے گا، انہوں نے کراچی زو میں آرگینک فارمنگ اور پلانٹیشن ڈرائیو شروع کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ ماحول دوست اقدامات کو فروغ دیا جا سکے اور شہریوں کو صاف اور سرسبز تفریحی مقام فراہم کیا جا سکے ، مزید برآں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارکس اور تفریحی مقامات پر سیکورٹی اور صفائی ستھرائی کو یقینی بنایا جائے گا، شہریوں بالخصوص بچوں اور خاندانوں کے لیے محفوظ اور خوشگوار ماحول کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔