بھالوکا‘ میمن سنگھ‘ بنگلہ دیش میں دو روزہ قیام کے دوران کئی ایسے خوبصورت پرندے دیکھے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ کسی جگہ وافر خوراک ہو‘ بے خطر اڑتے پھرنے کی آزادی ہو‘ ہریالی ہو‘ درخت ہوں‘ پانی ہو اور سکون ہو تو پرندے وہاں کیسے نہ آئیں؟ پرندوں کی پھیلتی چہکاریں ہر طرف گونجتی تھیں۔ مجھے لگنے لگا کہ میں بھی ایک ایسا مہاجر پرندہ ہوں جو دور دراز کے علاقوں سے وافر دانہ پانی اور ہریالی دیکھ کر بھالوکا آ اُترا ہوں۔ یہاں دو دن قیام بہت دن تک یاد رہے گا۔
ایک خواہش دل میں یہاں آنے کے بعد مسلسل مچلتی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہاں کے بہت بڑے تالاب میں بڑی بڑی مچھلیاں ہیں‘ میزبان خود شکار کے شوقین ہیں اور ان کے دسترخوان پر اکثر یہی مچھلیاں ہوتی ہیں۔ یہ جان کر ایک دیرینہ حسرت انگڑائی لے کر بیدار ہو گئی۔ ہمیشہ یہ حسرت ایک منظر ساتھ لے کر آتی ہے کہ میں کسی دریا‘ کسی ندی‘ کسی جھیل کنارے کانٹا ڈال کر بیٹھا ہوں اور مچھلی کا انتظار ہے۔ پتا نہیں یہ بچپن میں مچھیروں کی کہانیوں کا کرشمہ ہے یا کوئی ایسا موقع میسر نہ آنے کا کہ یہ حسرت ایک خواب کی صورت آنکھوں میں ٹھہری رہتی ہے۔ ایک دو بار کراچی میں جو چھوٹی چھوٹی کشتیاں کیماڑی سے چلتی ہیں اور جن میں کانٹے‘ ڈوری وغیرہ بھی ہوتی ہیں‘ میں یہ شوق پورا کیا اور اگرچہ کوئی بڑی مچھلی کانٹے میں نہیں آئی لیکن یہ اندازہ ہو گیا کہ جو لوگ مچھلی کے شکاری ہیں‘ وہ کیوں اس کے نشے میں سرشار رہتے ہیں۔ کچھ چھوٹی مچھلیاں پکڑکر ہی میں اس شوق کا اسیر ہو گیا۔ ایسا لگا کہ یہ خواہش کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔ یہاں بھالوکا میں سب کچھ میسر تھا۔ تالاب‘ مچھلیاں پکڑنے کی جدید چھڑیاں‘ ڈور‘ کانٹے وغیرہ۔ مزید یہ کہ سکھانے کیلئے تجربہ کار لوگ۔ ذرا مایوسی اس وقت ہوئی جب میزبان نے بتایا کہ سردی کے دن ہیں اس میں شکار بہت کم ہوتا ہے کیونکہ مچھلی چارے پر نہیں آتی لیکن میری خواہش دیکھتے ہوئے انہوں نے سامان منگوایا اور میں کچھ دیر میں اس پلیٹ فارم پر کھڑا تھا جو تالاب میں اسی مقصد کیلئے بنایا گیا تھا۔ یہ تو خیر مجھے علم تھا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کانٹا ڈالیں اور مچھلی اس طرح دوڑی دوڑی چلی آئے جیسے وہ آپ ہی کی منتظر تھی لیکن کافی وقت گزر جانے کے بعد بھی جب ڈوری میں کوئی ہل جل نہ ہوئی تو مایوسی ہونے لگی۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور نہا دھو کر جمعہ کی نماز کیلئے بھی جانا تھا‘ لہٰذا بہت وقت اس پلیٹ فارم پر نہیں گزارا جا سکتا تھا؛ چنانچہ میں چھڑی اور ڈور عملے میں سے کسی کے ہاتھ میں دے کر تیار ہونے نکل گیا۔ ایک گھنٹے بعد واپس آیا تو خوشخبری میری منتظر تھی۔ ایک بڑی مچھلی میرے کانٹے میں آچکی تھی۔ یہ آٹھ کلووزنی ایک کیٹ فش تھی۔ یہ خوشی کا وہ لمحہ تھا جو ایک عمر کے بعد آیا تھا؛ چنانچہ میں نے اس کی وڈیو بنوائی‘ تصویریں کھنچوائیں اور مچھلی کو رات کے کھانے کیلئے سپرد کر دیا۔
اُس دن جمعہ کی نماز کے ساتھ ہی ڈھاکہ کے ایک مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ کی ضیافت تھی۔ مٹن بریانی‘ بیف قورمہ‘ دہی‘ گلاب جامن‘ جلیبی وغیرہ تو اپنی جگہ‘ گول گپے اور کافی کے سٹال بھی کئی جگہ لگائے گئے تھے۔ مدرسے کے کئی اساتذہ پاکستان کے تعلیم یافتہ تھے اور وہ اپنی یادیں مجھ سے دہراتے رہے۔بنگلہ دیش میں جمعہ کے دن پورے ملک میں سرکاری چھٹی ہوتی ہے؛ چنانچہ کھانے کے بعد جب ہم مل دیکھنے کیلئے نکلے تو مشینیں اور اکثر یونٹ بند تھے۔ اس کے باوجود ان سارے یونٹس میں دھاگے سے کپڑے کی شکل بنتے دیکھنا‘ اس کپڑے کی مطلوبہ رنگ میں رنگائی دیکھنا ایک الگ قسم کا تجربہ تھا۔ ایک بڑی مل کا مالک ہونا بڑے مقدر والوں کے نصیب میں ہے لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی یہ ملکیت بڑے دردِ سر‘ بڑی ذمہ داریاں اور بڑے مسائل بھی ساتھ لاتی ہے۔ یہ ایک پیکیج ہے اور اسے پورا ہی قبول کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہاں کا پُرسکون ماحول‘ بہترین انتظامات دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہاں مزدور کارکنان کو بھی بہترین سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
اُس دن سہ پہر کے وقت ہم کمرخ کے درخت کے پاس سے گزرے تو وہ پھلوں سے لدا پڑا تھا۔ نیچے کچی زمین پر بے شمار کمرخ پھل گرے پڑے تھے۔ اسے انگریزی میں سٹار فروٹ کہتے ہیں کیونکہ جب اس پھل کو کاٹیں تو ستاروں کی شکل کی چھوٹی چھوٹی قتلیاں بنتی ہیں۔ اپنے گہرے کھٹے ذائقے کی وجہ سے املی‘ کٹارے اور کمرخ میرے بچپن ہی سے پسندیدہ رہے ہیں۔ بھالوکا میں یہ پرانی یاد بھی تازہ ہوگئی۔نو جنوری کو مجھے بھالوکا سے رخصت ہو کر قریب ہی غازی پور کی ایک اور ٹیکسٹائل مل میں جانا تھا جو ایک اور پیارے میزبان محمد سلمان صاحب کی تھی۔ سلمان بھی دارالعلوم کراچی کے تعلیم یافتہ ہیں اور میرے بڑے بھائی مفتی محمود اشرف عثمانیؒ کے شاگرد بھی۔ وہ لاہور میں ہمارے گھر بھی ایک دو بار آچکے ہیں۔ سلمان میرے بھائی جان سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور اب تک ان کی نصیحتیں اور ان کے بتائے ہوئے جملے دہراتے رہتے ہیں۔ ان کا بار بار اصرار تھا کہ میں ان کی میزبانی میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزاروں؛ چنانچہ ان کی گاڑی اور مل منیجر صاحب لینے آگئے اور ہم چالیس منٹ کے فاصلے پر غازی پور‘ ان کی ٹیکسٹائل مل میں پہنچ گئے۔ یہ 100 ایکڑ پر پھیلی ایک وسیع و عریض بالکل نئی مل ہے جس کے پہلے یونٹ نے چند ماہ قبل ہی آغاز کیا ہے۔ یہ روئی سے دھاگا بنانے کا یونٹ ہے اور اس میں جدید ترین مشینری لگائی گئی ہے ۔
غازی پورسے نکل کر ہم ڈھاکہ کی طرف رواں تھے اور راستے میں یہاں سے ہمیں ایک اور ٹیکسٹائل مل میں جانا تھا جو میزبان کی گارمنٹس فیکٹری کے پہلو میں ہے۔ میں ان دونوں عمارتوں‘ کارکنان کی تعداد‘ کاموں کی نوعیت اورمصروفیات جان کر حیران رہ گیا۔ وہاں جائے بغیر میں ان کا اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ یہاں ٹھیک طور پر سمجھ میں آتا تھا کہ بنگلہ دیش ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر کیوں ہے۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل سٹورز‘ برانڈز اور گارمنٹس کے بادشاہ بنگلہ دیش ہی سے اپنا مال بنواتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو سستی مزدوری ہے لیکن اس کے بعد حکومتی سہولتیں مثلاً بجلی وغیرہ سبسڈیز اور ری بیٹ بھی حکومتی پالیسی کا حصہ ہیں۔
یہاں سے ہم پھر ڈھاکہ کیلئے نکلے۔ اس سفر میں بھرپور گفتگو ہوتی رہی۔سلمان نے اپنی زندگی کے حیران کن واقعات سنائے جو بتاتے تھے کہ کیسے اللہ ایک بے وسائل‘ معمولی ملازم کا ہاتھ پکڑ لے تو اس کی ترقی کی کوئی حد نہیں رہتی۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن سلمان نے میرے بھائی جان کا ایک جملہ دہرایا جو اس سفر کا حاصل تھا۔ انہوں نے کہا کہ استاد محترم کہتے تھے کہ زندگی میں اعتدال رکھو اوریاد رکھو! اس اعتدال میں بھی اعتدال رکھنا۔ کیسا عجیب جملہ ہے اور بھائی جان کی زندگی کا عکاس بھی۔ کچھ جملے کتابوں سے نہیں ملتے‘ کسی شخصیت ہی سے ملتے ہیں۔ اور شخصیت بھی وہ جس نے زندگی برتی ہو‘ رویے دیکھے ہوں اور عمر بھر پہاڑ جیسے نشیب و فراز سے گزری ہو۔