"SUC" (space) message & send to 7575

ڈور ہے اس کے ہاتھ میں

پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ کالم نہ بسنت کے کسی حامی کا ہے نہ مخالف کا۔ نہ اس کی خرابیوں اور خونریزیوں کا دفاع کرنا ہے‘ نہ اس کی خوبصورتیوں سے انکار۔ آپ بسنت کے حامی ہوں یا مخالف‘ ایک بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا‘ وہ یہ کہ بسنت ہماری نسل کی یادوں کا اہم حصہ رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ لاہور کی ثقافت‘ تاریخ اور مزاج میں سے بسنت کوکھرچ دینا بھی ممکن نہیں۔ آپ اسے کسی مذہب یا رسم سے جوڑنا چاہیں تو جوڑتے رہیں‘ میں نہیں جوڑتا؛ البتہ اس میں اسراف‘ نمائش‘ پیسے کا ضیاع‘ کمائی کا ہتھیار بنانے کا مخالف پہلے بھی تھا اور اب بھی ہوں۔ ہماری نسل جو آسمان پر اڑتے پھرتے ان پھولوں کو دیکھ دیکھ کر جوان ہوئی ہے‘ اسے اپنے حافظے سے کیسے مٹا سکتی ہے؟ ماضی کا منظر انجن کی طرح بیشمار ریل کے ڈبے کھینچتا آتا ہے۔ خیال آتا ہے ایک پوری نسل جوان ہو گئی جن کی یادوں میں بسنت کا کوئی حصہ نہیں‘ اور اگلی نسلیں اسی طرح یکے بعد دیگرے آتی رہیں گی۔ وہ پتنگ بازی کی وہ اصطلاحات بھی نہیں جان سکیں گی جو ہماری نسل کے بچوں کو ازبر تھیں۔ تو کیا حرج ہے کہ ان یادوں‘ ان باتوں کو ایک بار پھر تازہ کر لیا جائے۔ یاد رہے کہ وہ خرابیاں جو شروع سے اس کے ساتھ نتھی تھیں اور جو بعد میں ساتھ جڑتی رہیں‘ ان میں کسی سے انکار مقصد نہیں۔
پتنگیں دنیا بھر میں اڑائی جاتی ہیں لیکن یہ خصوصیت صرف پاک وہند کو حاصل ہے کہ یہاں پتنگ بازی مقابلہ بازی بھی ہے۔ برصغیر کا ہر علاقہ نہیں‘ پنجاب اور یو پی خاص طور پر۔ پھر جہاں جہاں ان کے رہنے والے گئے‘ اپنا تمدن بھی ساتھ لے گئے۔ اپنی پتنگ اڑانا نہیں بلکہ دوسرے کی پتنگ کو کاٹنا اور اس کیلئے بہترین لوازمات اکٹھے کرنا بھی انہی علاقوں کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ نظیر اکبرآبادی نے جب یہ کہا ہوگا:
میں ہوں پتنگ کاغذی‘ ڈور ہے اس کے ہاتھ میں
چاہا اِدھر گھٹا دیا‘ چاہا اُدھر بڑھا دیا
تو محبوب کی دسترس اور اپنے بے اختیاری کے مضمون میں کچھ چیزوں کا وقت کے ساتھ گھٹنا‘ بڑھنا ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہو گا۔ میں نے لکھنؤ اور دلّی کی پتنگ بازی کا صرف ذکر پڑھا یا سنا لیکن لاہور میں برتا ہے۔ اس فن نے اردو زبان کو بھی بہت سے محاورے اور شعر بخشے۔ کتنے ہی گیت بھی۔ لکھنؤ کا 'وہ کاٹا‘ جب لاہور میں آیا تو بو کاٹا ہو گیا۔ اور پھر دل بھی بوکاٹا ہو گیا۔
ہم لوگوں میں بسنت کا پہلے سے انتظار ہوتا تھا۔ پچھلے سال کی سنبھال کر رکھی ہوئی پتنگیں اور ڈوریں نکالی جاتیں۔ پتنگ کے سائز کا معیار تاوا ہے۔ یہ ایک تاوا گڈا ہے‘ وہ ڈیڑھ تاوا‘ وہ تین تاوا وغیرہ۔ چھوٹی بچگانہ پتنگ جس کی جھالر والی دم ہوتی تھی گڈی کہلاتی جبکہ بغیر جھالر کے لنگر والا یعنی پان والا گڈا کہلاتا۔ بانس کی ہلکی لیکن مضبوط کمان کی شکل کی ڈنڈی کانپ یا کمان کہلاتی تھی جبکہ سیدھی ڈنڈی ٹھڈ یا ٹھڈا۔ انہی دونوں کو باہم جوڑ کر گڈی کاغذ چڑھایا جاتا اور مطلوبہ شکل دی جاتی۔ بڑے سائز کی گڈی پری اور بڑے سائز کا پرا۔ بہت بڑے سائز کا گڈا پھاپھڑ۔ لکھنؤ کٹ گڈا مختصر فرنچ کٹ داڑھی جیسے دم کی پتنگ تھی۔ اس میں بھی سائز چھوٹے بڑے ہوتے تھے۔ کنکوا کا لفظ لاہور میں رائج نہیں تھا لیکن لکھنؤ میں اصل بہار اسی کی تھی۔ شاید یہ لکھنؤ کٹ ہی کو کہتے تھے یا اُس پتنگ کو جو دو رنگی ہو۔ یہیں سے اردو محاورہ بنا کہ وہ تو کنکوے اڑاتا ہے؛ یعنی ادھر ادھر کی باتیں کرتا ہے۔ پتنگوں کی ایک بالکل نرالی قسم اس حسینہ کی طرح ہے جس کی کمر پتلی اور باقی جسم بھاری ہو‘ اوپر سے بطخ کی سی چونچ ہو۔ اسے لکھنؤ اور دہلی میں تکّل کہتے تھے۔ وہی تکّل جس کے بارے میں مولانا ظفر علی خان نے کہا:
زمیندار ایک‘ آپ اتنے‘ مگر اوجِ صحافت پر
یہ اک تُکّل لڑے گا آپ کے سارے پتنگوں سے
اسے لاہور میں پتنگ کہتے ہیں‘ بلکہ پتنگ کا مطلب ہی یہ شکل ہوتی ہے‘ تکل کوئی نہیں جانتا۔ شاید سب سے خوبصورت اور سب سے مشکل پتنگ کا پیچ ہوتا ہے۔ جب یہ اٹھلاتی‘دائیں بائیں ٹھمکتی‘ پورے تنائو میں ہوتی ہے تو اس کی خوبصورتی اور کاٹ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس فن کے ماہر استاد پتنگ کا پیچ صرف برابر کی پتنگ سے کرتے ہیں۔ چھوٹی پتنگ یا گڈے سے پیچ انہیں خوشی نہیں دیتا۔ پتنگ ہی کی ایک قسم کوپ کہلاتی ہے۔ اس کا نچلا حصہ نسبتاً چھوٹا‘ گول اور سڈول ہوتا ہے۔ پتنگ اور کوپ اپنے پورے زور پر اسی وقت ہوتے ہیں جب ہوا میں ہوں اور افق سے اچھے خاصے اونچے ہوں۔ نیچے گر کر ان کے لیے اٹھنا مشکل ہوتا ہے۔
ڈوروں کی نرالی قسمیں ہیں۔ ہر سائز‘ ہر پتنگ اور ہر مقصد کی ڈوریں علیحدہ ہیں۔ درختوں کے دو کھڑے تنوں کے درمیان‘ جن کا فاصلہ متعین ہوتا ہے‘ سوتی دھاگا تان دیا جاتا ہے (دھاگے کی موٹائی پتنگ باز کی ضرورت کے مطابق ہوتی ہے)۔ پھر دھاگے پر پسا ہوا شیشہ‘ پھینٹا ہوا انڈا‘ رنگ وغیرہ لگایا جاتا۔ اس آمیزے کو لدھی یا لگدی کہتے ہیں۔ جتنا شیشہ اتنی ہی ڈور کاٹ دار لیکن ڈور کا ملائم رہنا بھی ضروری ہے ۔ بھس کے ایک گولے یعنی پنّے کے اوپر کاغذ لپیٹا جاتا ہے اور اسے بوجھا کہتے ہیں۔ اس گولے کے اوپر ڈور لپیٹی جاتی ہے۔ کچھ دیر لپیٹنے کے بعد پنے کا رخ بدل کر لپیٹا جاتا ہے۔ ایک رخ لپیٹی ہوئی ڈور کو پیڑھی کہتے ہیں۔ ڈور کی مقدار کا پیمانہ گوٹ ہے۔ یعنی بارہ گوٹ کا پنا‘ چھ گوٹ کا پنا وغیرہ۔ اس کام کے ماہرین الگ ہوتے ہیں۔ ڈور بنانے سے لپیٹنے تک‘ یہ ہر کسی کے بس کا کام نہیں۔
پتنگ میں سوراخ بنا کر ڈور ڈالنا بھی ایک فن ہے۔ اسے کنّے یا طنابیں کہتے ہیں۔ یہی طنابیں جب پنجاب میں پہنچیں تو 'تناویں‘ ہو گئیں۔ اگر پتنگ اشاروں پر چلے اور پتنگ باز کی مرضی کے مطابق سیدھی کھڑی رہے تو وہ سُدھ ہے۔ کم ہواکی وجہ سے اگر پتنگ کی ڈور لٹکنے لگے تو وہ پیٹا چھوڑ رہی ہے۔ لیپو وہ پتنگ ہے جس کا کاغذ ڈھیلا ہو اور پوری تان میں نہ آ سکے۔ ڈور دینے کے انداز بھی الگ الگ نام رکھتے ہیں۔ دمّی دینا ان میں سے وہ انداز ہے جب ڈور تیزی سے نہ چھوڑی جائے اور پتنگ پورے تان میں ہو۔ استاد کہتے تھے کہ ڈور اس طرح دینا فن ہے جب پتا بھی نہ چلے کہ اس آدمی کا پیچ چل رہا ہے۔ میں نے منٹو پارک میں یہ منظر دیکھا کہ ایک آدمی چادر کی بکل مارے کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھوں کی حرکت بہت معمولی ہے۔ بالکل قریب جانے پر پتا چلا کہ اس کا بہت دیر سے پیچ لگا ہوا ہے۔ پتنگ بازی بھی ٹیم ورک ہے‘ ایک آدمی کا کام نہیں۔ پتنگ باز کے دائیں ہاتھ ذرا پیچھے ایک آدمی پنّا ہاتھ میں پکڑے کھڑا ہوتا۔ یہ ہوشیاری کا کام ہے اس لیے کہ پیڑھی بدلنے پر پنّے کا رخ تبدیل ہونا ضروری ہے۔ ڈور پنّے سے اچانک اکٹھی بھی نکل آتی ہے جسے پیڑھی اچھلنا کہتے ہیں۔ اس صورت میں پنّے والے کی ہوشیاری پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح پتنگ باز کو ڈور کی ہموار ترسیل یقینی بناتا ہے۔ چرخی پر ڈور لپٹی ہو تو یہ مسائل کم ہوتے ہیں تاہم لاہور میں چرخی بہت بعد میں رائج ہوئی۔ ہاتھ مارنا‘ کانٹی مارنا‘ گٹِھ کرنا یا انٹی کرنا‘ تان چکھنا‘ چموڑنا‘ لئی بنانا‘ چیپی لگانا‘ کنّی باندھنا‘ پتنگ کا انّے لگنا‘ گھمیری کھانا سمیت بے شمار اصطلاحات ہیں جو الگ الگ مفہوم میں رائج ہیں۔ کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ صاحبِ طرز مصور عبدالرحمن چغتائی بہترین پتنگ باز تھے اور ڈور لگانے اور پتنگیں بنانے کے ماہر۔ ان کے جاننے والے بتاتے ہیں کہ یہ فیصلہ دشوار تھا کہ ان کی پینٹنگ زیادہ کمال کی ہے یا پتنگ۔ مجھے علم نہیں کہ اس فن اور استادوں کے نادر واقعات پر کوئی مضمون یا کتاب لکھی گئی یا نہیں؟ کوئی تحقیقی کام ہوا یا نہیں؟
یہ تحریرصرف اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرنے کیلئے‘ کچھ اصطلاحات دہرانے کیلئے اور ایک ایسے تہوار کو یاد کرنے کیلئے ہے جس میں ایک زمانے میں خوبیاں زیادہ تھیں۔ لیکن اب پرانے دور کا لوٹنا اسی طرح ناممکن ہے جیسے پرزے پرزے پتنگ کا دوبارہ جڑنا۔ کتنی چیپیاں لگائی جا سکتی ہیں آخر؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں