سات جنوری کو مغرب کے بعد بنگلہ دیش کے پبلشرز اور بُک سیلرز کی تنظیم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ ہم صدر گھاٹ ڈھاکہ سے واپس آئے تو مغرب کے بعد اس کے دفتر جا پہنچے۔ تقریب میں عہدیداران اور عام ارکان بھی موجود تھے۔ صدر‘ نائب صدر‘ سیکرٹری جنرل وغیرہ نے خوش آمدید کہا اور ابتدا میں تنظیم کا تعارف کروایا۔ معلوم ہوا کہ تنظیم کتب فروشوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور فلاحی کاموں میں بھی مصروف رہتی ہے۔ بنگلہ دیش میں کتاب میلے منعقد کراتی ہے اور دنیا بھر کے کتاب میلوں میں بنگلہ دیش کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ میرا دھیان اپنے اداروں کی طرف گیا۔ سرکاری اداروں کی حالت تو سب کے سامنے ہے۔ کتابچیوں یعنی پبلشرز اور بُک سیلرز کی غیرسرکاری تنظیمیں بھی اس طرح منظم کام نہیں کرتیں جیسے کیا جانا چاہیے۔ اور اکثر تو یہ تنظیمیں باہمی گروہ بندی کا شکار ہوکر بالآخر ختم ہو جایا کرتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی اس تنظیم میں بھی یہ مسائل لازماً موجود ہوں گے لیکن میرا تاثر یہی ہے کہ وہ ہماری تنظیموں کی نسبت کافی بہتر کام کر رہی ہے اور اس کا دائرہ بھی کافی وسیع ہے۔مجھے اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی تو میں نے عرض کیا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے بیچ جو برف پگھلنے کا موسم آیا ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اردو کتب کے بنگالی میں تراجم کا راستہ کھلا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے ناشرین بھی‘ خاص طور پر بچوں کی کتابوں میں بنگلہ دیش کے ناشرین سے معاہدے کر سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کے کتاب میلوں میں دونوں ملکوں کے ناشرین کی نمائندگی ہو تو رابطے پھر جڑ سکیں گے۔ اسی طرح ناشرین اور مصنفین کے وفود کا تبادلہ ہوتا رہے تو ذہنی ہم آہنگی بھی ہو گی۔ ادیبوں اور شعرا کے وفود کا تبادلہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ہم پاکستانی آپ سب بھائیوں سے بہت محبت رکھتے ہیں اور کسی بھی معاملے میں کسی بھی وقت ہم ہر ممکن معاونت کیلئے حاضر رہیں گے۔ اس اجلاس میں بھی جس تپاک اور گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا‘ وہ ایک بار پھر اس بات کی دلیل تھا کہ دینی حلقوں سے ہٹ کر بھی خالص تجارتی حلقوں میں عام آدمی اور دکاندار کے دل میں پاکستان کیلئے بہت محبت موجود ہے۔ سرکاری اور نجی سطح پر اس وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ممکنہ مراسم بڑھانے چاہئیں۔
بنگلہ بازار سے نکل کر ہم اپنی گاڑی کی طرف جاتے جاتے رک گئے۔ سامنے ڈھاکہ کی جگن ناتھ یونیورسٹی تھی اور وہاں لوگوں کا جم غفیر یونیورسٹی اور سامنے کی سڑکوں پر موجود تھا۔ دراصل اسی دن طلبہ یونین کے انتخاب تھے اور اب مغرب کے بعد لوگ بے چینی سے نتائج کا انتظار کر رہے تھے۔ ذرا سی دیر میں نعرے بلند ہونے لگے اور معلوم ہوا کہ اسلامی چھترا شبری یعنی جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم نے میدان مار لیا ہے۔ یہ بھی علم ہوا کہ ڈھاکہ کے علاوہ چٹاگانگ اور راج شاہی کی جامعات میں بھی اسی تنظیم کے پورے پورے پینل کامیاب ہوئے ہیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں میں یہ پہلی بار ہے کہ دائیں بازو کی جماعتیں کامیاب ہوئی ہیں اور وہ بھی لینڈ سلائیڈ فتح کے ساتھ۔ یہ بھی اطمینان کا پہلو تھا کہ اس نتائج کے بعد مقابل حریفوں میں تصادم اور ٹکراؤ نہیں ہوا اور یہ نتائج قبول کر لیے گئے۔ میرا تاثر ہے کہ ان طلبہ تنظیموں کے نتائج بنگلہ دیش میں 12 فروری کے عام انتخابات اور نتائج کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ اور اب تو ان انتخابات میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔
پھر وہی ہم تھے‘ وہی ڈھاکہ کی سڑکیں‘ رات کا پُر ہجوم ٹریفک اور پرانے ڈھاکہ سے اُترا کے علاقے تک پہنچنے کا انتظار۔ اندازہ تھا کہ ہمیں کئی گھنٹے لگیں گے اور یہ اندازہ غلط بھی نہیں تھا۔ ہم اُترا میں کوی جسیم الدین روڈ پر پہنچے تو رات کے دس بج چکے تھے۔ کوی جسیم الدین بنگلہ دیش کے مشہور شاعر تھے‘ انہی کے نام پر اس سڑک کا نام رکھا گیا تھا۔ میزبانوں نے آج یہاں میرے لیے ہوٹل کا انتظام کیا تھا۔ یہ ہوٹل چند ماہ پہلے شروع ہوا تھا یعنی بالکل نیا تھا۔ ایئر پورٹ کی بالکل بغل میں تھا اور یہاں دائیں بائیں بہت سی دکانیں اور ریستوران موجود تھے۔ میں رات کے کھانے کے بعد ہوٹل کی چھت پر چلا گیا جہاں سوئمنگ پول کی نیلی روشنیوں کے پار ڈھاکہ جھلملا رہا تھا۔ ایئر پورٹ رن وے اتنا قریب تھا کہ آپ جہازوں کو اترتے چڑھتے دیکھ سکتے تھے۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ اور شور ہنگاموں کے بعد رات کی خاموشی اور خنک ہوا کی سرگوشیاں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی پہاڑ کی چوٹی پر ہوں اور نیچے سرسبز وادی میں رات اتری ہوئی ہو۔ ستاروں بھرے آسمان اور روشنیوں بھری زمین کے بیچ میں کہیں کھڑا ہوں اور اس گوشے میں اکلوتے تماشائی کی طرح کائنات کا نظارہ کر رہا ہوں۔ تادیر یہ منظر دیکھتا رہا یہاں تک کہ ستاروں کو جھپکیاں آنے لگیں اور رات کی آنکھوں میں نیند نے ڈیرے ڈال لیے۔
اگلی صبح ایک گہری نیند اور بھرپور ناشتے کے بعد میں تازہ دم تھا۔ آج ہمیں ڈھاکہ یونیورسٹی‘ بنگلہ اکیڈمی اور بنگلہ میوزیم جانا تھا۔ یاد نہیں ڈھاکہ یونیورسٹی کا ذکر کتنے حوالوں سے‘ کتنی شخصیات سے اور کتنی جگہ سنا اور پڑھا تھا لیکن اتنی بار کہ ذہن نے ان در و دیوار کا ایک تصور سا بنا لیا تھا۔ ٹریفک کے دریا سے گزر کر ہم شاہ باغ نامی علاقے میں پہنچے جو ڈھاکہ یونیورسٹی کے باہر ہے اور سیاسی اجتماعات کیلئے مشہور و معروف جگہ۔ اس جگہ نے حسینہ واجد کی حکومت اکھاڑ پھینکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شاہ باغ میں انقلابی نعرے اور تصویریں موجود تھیں۔ ہم آگے بڑھ کر ڈھاکہ یونیورسٹی کو جانے والی سڑک پر مڑے اور یونیورسٹی کی عمارات ایک ایک کرکے پردوں سے باہر آنے لگیں۔ جامعہ ڈھاکہ میرے تصور سے مختلف نکلی۔ یہ کافی حد تک پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس جیسی تھی۔ اسی انداز کی عمارات‘ وہی بڑے بڑے اونچے برآمدے۔ برآمدوں میں اونچے اونچے دروازے جو کہیں دفتروں اور کہیں کلاس رومز کے اندر کھلتے تھے۔ وہی قدامت اور کہنگی جو در و دیوار سے ٹپکتی اور چھتوں سے برستی تھی۔ قدیم اونچے پیڑ جن کے سائے زمین پر بچھے ہوئے تھے اور انہی سایوں میں طلبہ و طالبات کی ٹولیاں بیٹھی تھیں۔ سبزے کی شادابی اور سائے کی خنکی چاہتی تھی کہ ہم بھی یہیں کہیں بیٹھ جائیں لیکن مسافر کو تو یہاں بس دم بھر کیلئے رکنا تھا۔ پھر بھی ایک رنج تھا کہ دل میں بیٹھتا اور پھیلتا جاتا تھا۔
غبارِ درد میں بھی گردِ ماہ و سال میں بھی
عجیب رنج تھا جس کو خیال تھا میرا
ہم ایک عمار ت کی سیڑھیاں چڑھے جو فنونِ لطیفہ کیلئے مخصوص تھی۔ ایسا لگا جیسے بہت مدت سے یونیورسٹی کی حالت بہتر بنانے کی کوششیں نہیں کی گئیں۔ صفائی کے حالات بھی کچھ خاص نہیں تھے۔ ہر قدیم یونیورسٹی کی طرح ڈھاکہ یونیورسٹی بھی اپنی تعمیری پہچان رکھتی ہے اور اس شناخت کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے لیکن در ودیوار سے جھڑتے رنگ اور بدحال چھتوں کا جواز پھر بھی نہیں ہوتا۔ مجھے کم از کم اس عمارت کی حد تک لگا کہ پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کے احوال اس سے بہتر ہیں۔ اسی عمارت کی تیسری منزل پر عربی‘ فارسی‘ اردو اورچینی زبانوں کے شعبے بھی ہیں۔ شعبۂ عربی کا کتب خانہ متاثر کن تھا اور وہاں تحقیقی کام والے موجود تھے۔ شعبۂ اردو میں غالباً چھٹیاں تھیں اور طلبہ و اساتذہ موجود نہیں تھے۔ چنانچہ خانۂ خالی میں سکوت کے دیو نے پڑاؤ ڈال رکھا تھا۔ کسی قریب کی راہداری میں گرد اڑتی تھی یا شاید کسی تعمیری کام کا غبار اڑتا تھا جو اس پورے فلور پر پھیل کر ہمارا ٹھہرنا ناممکن بناتا تھا۔ اس غبارِ درد اور گردِ ماہ و سال میں ہم مسافر ان در و دیوار کو دیکھتے تھے جو آشنا بھی تھے اور اجنبی بھی۔