"SUC" (space) message & send to 7575

ڈاکو ریٹائر نہیں ہوتے

آپ اسی شہر میں زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں جو آپ کو پسند بھی ہو‘ جہاں آپ کی زندگی کا بڑا حصہ بھی گزرا ہو‘ جہاں گلی کوچوں سے بہت سی یادیں بھی وابستہ ہوں‘ اور جہاں آج بھی آپ کے رشتے دار‘ دوست‘ محبت کرنے والے موجود ہوں۔ یہ سب شرائط کراچی کے دلدار‘ دلنواز اور غریب پرور شہر میں پوری ہوتی ہیں‘ لیکن اس کے باوجود کراچی میں زندگی بسر کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ دل سے اس کی وجہ پوچھتا ہوں تو دل کہتا ہے میاں! کراچی دو ہیں۔ تم جس کراچی میں زندگی بسر کرتے رہے ہو وہ 70ء‘ 80ء کی دہائیوں کا کراچی ہے۔ تمہاری یادوں‘ تمہارے دل میں وہی کراچی زندہ ہے‘ تم اسی آب و ہوا میں زندہ ہو۔ لیکن آنکھیں کھول کر دیکھو۔ یہ 2026ء ہے۔ تمہیں اس میں 50 سال پہلے کے شہر کے کون سے خد وخال نظر آتے ہیں؟ یہ ایک بالکل اجنبی شہر ہے‘ اَن گنت رشتے داروں‘ بے شمار دوستوں اور محبت کرنے والوں کے ہوتے ہوئے بھی ایک اجنبی شہر۔ سو ایک نہیں‘ کراچی دو ہیں۔
میں دل کی بات مان لیتا ہوں اس لیے کہ یہی میرے دل کو لگتی ہے۔ کچھ مدت بعد کراچی جانے کا کوئی نہ کوئی موقع ملتا رہتا ہے‘ کوئی شادی‘ کوئی غمی‘ کوئی کانفرنس‘ کوئی مشاعرہ‘ کوئی تقریب۔ کچھ نہ کچھ نکل ہی آتا ہے۔ لیکن اس میں وہ مقناطیسیت ختم ہو چکی ہے جو بغیر کسی بہانے کے‘ محض کراچی کی ہواؤں کا لمس محسوس کرنے اور اس کی مخصوص مہک سے ہم آغوش ہونے کی بے تابی اور للَک ساتھ لے کر آیا کرتی تھی۔ اب کراچی کا سفر خوشگوار ہونے کے ساتھ دل بھی مسل کر رکھ دیتا ہے۔ ہماری یادوں کے شہر میں اتنے مسائل؟ اتنی مشکلات؟ اتنی دشواریاں؟ یہ انہیں کس جرم کی سزا روز ملتی ہے؟ سچ یہ ہے کہ کراچی جا کر دل خود کو مجرم مجرم سا محسوس کرنے لگتا ہے۔ کسی نامعلوم گناہ کا بوجھ دل پر بھاری ہونے لگتا ہے۔ لیکن اسی لمحے خیال آتا ہے کہ شہر کی اس حالت کے جو اصل مجرم ہیں‘ جو اصل ذمہ دار ہیں‘ وہ تو بڑے سکون‘ بڑے اطمینان سے بیٹھے ہیں اور روز کوئی بیان داغتے ہیں‘ ان کے دل میں کوئی احساسِ جرم پیدا کیوں نہیں ہوتا؟ ان کے دل پر کوئی سِل کیوں نہیں دھر جاتا؟ خدایا! انسانوں کے دل تُو نے کتنی قسم کے بنائے ہیں؟
میں آن لائن منگوائی گئی ایک ٹیکسی کار میں بیٹھا تھا۔ گلستانِ جوہر سے یونیورسٹی روڈ پر اردو کالج کے عقب میں گلشنِ اقبال کے ایک بلاک میں جانا تھا۔ صفورا چورنگی سے ریڈیو پاکستان تک سڑک اُدھڑی پڑی ہے۔ سڑک کے بیچ میٹرو کیلئے جو ایک دو مشینیں سستی سے کام کر ہی ہیں‘ وہ تیس چالیس سال سے پہلے یہ کام نہیں ختم کر سکتیں۔ اس ادھڑی ہوئی‘ برباد سڑک پر بھی گاڑیوں کا ایک ہجوم تھا۔ یہ سب لوگ اپنی منزل کی طرف مڑنے کا راستہ تلاش کر رہے تھے اور وہ کٹ کہیں نہیں تھا۔ دس سال سے یونیورسٹی روڈ کی کم و بیش یہی حالت ہے۔ اگرچہ اس وقت بدترین ہے۔ شہر کے اچھے اور خوشحال علاقوں سے ہوکر کراچی یونیورسٹی جانے والی یہ سڑک بتا سکتی ہے کہ باقی شہر‘ خاص طور پر کم درجے کے علاقوں میں کیا حالات ہوں گے۔ ٹیکسی والے محمد سلیم کو اندازہ ہو گیا کہ میں اس شہر کا نہیں۔ ہچکولے کھاتی سڑک پر اس نے مجھ سے ہچکولے کھاتا ایک سوال کیا: ''سر آپ لاہور والے بتا سکتے ہیں کہ یہ ہمیں کسی گناہ کی سزا مل رہی ہے‘‘؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ سو جواب اس نے خود ہی دیا: ''یہ اس بات کی سزا ہے کہ ہم سب سے زیادہ ٹیکس کیوں دیتے ہیں۔ یہ اس بات کی سزا ہے کہ ہمارے شہر سے ان جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں پڑتا جو خود کو اس شہر اورصوبے کا مالک سمجھتی ہیں‘‘۔ میرے پاس اس کی تائید کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ محمد سلیم اسی علاقے میں گاڑی چلاتا ہے اور وہ بتاتا ہے کہ چند ماہ بعد ہی اچھی سے اچھی گاڑی کی کیا حالت ہو جاتی ہے۔ اس نے ایک حسرت سے کہا: میں لاہور جانا چاہتا ہوں‘ سنا ہے وہاں سڑکیں بہت اچھی ہیں‘ ترقی کے کام ہو رہے ہیں اور لوگ ایسے عذابوں میں نہیں ہیں۔ یہ سن کر دل پر ایک بھاری سِل نہ آ پڑے اور وزن تلے سانس بند نہ ہونے لگے تو اور کیا ہو۔ میں منزل پر ایک مجرم کی طرح گاڑی سے اترا اور آنکھیں چار کیے بغیر خاموشی سے روانہ ہو گیا۔
پانی کیلئے کراچی میں کیا جتن کرنا پڑتے ہیں‘ کیا آپ کو اندازہ ہے؟ میری بہن اور بہنوئی اردو کالج کے عقب میں گلشنِ اقبال میں رہتے ہیں۔ سہ منزلہ مکان میںگیارہ بارہ افراد کیلئے سرکاری پانی ناکافی ہوتا ہے اس لیے ماہانہ کم از کم تین ٹینکر ڈلوانا پڑتے ہیں۔ 2000گیلن والا ایک ٹینکر 11 ہزار روپے کا ہوتا ہے۔ اگر آپ سرکاری ذریعے سے ٹینکر لینا چاہیں تو نام لکھوا دیں‘ کچھ دن انتظار کے بعد ٹینکر تین سے پانچ ہزار روپے کے نرخ پر مل جائے گا۔ یہ ریٹ موسم‘ ضرورت اور علاقے پر منحصر ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ ابھی ضرورت ہو‘ ٹینکر مافیا کو آرڈر دیں اور آج ہی پانی مل جائے۔ گلستانِ جوہر کے ایک دوست نے بھی یہی صورتحال بتائی کہ ایک مہینے میں 15 ہزار روپے کا پانی خریدنا پڑتا ہے‘ سو جسم و جان کا رشتہ بحال رکھنے کیلئے آپ مجبور ہیں۔ ٹینکر مافیا کو معلوم ہے کہ کراچی میں زیر زمین پانی کھارا اور ناقابلِ استعمال ہے۔ نلوں میں سرکاری پانی ہے نہیں‘ سو پانی والے شہر سے اربوں روپے کما رہے ہیں۔ لائنیں موجود ہیں لیکن پانی نایاب ہے۔ پانی سے پورے مافیا کو روزی ملتی ہے سو اپنی روزی پر لات مار کر سرکاری انتظام کوئی کیوں کرے۔ یہ اس شہر کا حال ہے جو سمندر کنارے ہے۔
انسان یہ سب بھی جھیل لے اگر جان اور مال محفوظ ہوں۔ حال یہ ہے کہ گلی محلوں میں جرائم سے کوئی علاقہ محفوظ نہیں۔ سنسان علاقوں کی بات چھوڑیں‘ پُررونق دکانیں تک ڈاکوؤں کی دسترس میں ہیں۔ آئے دن وڈیوز اور کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہیں۔ پورا ملک انہیں دیکھتا ہے لیکن شاید پولیس اور سکیورٹی اداروں کی نظر سے یہ گزرتے ہی نہیں۔ آپ مجھے بتا دیں کہ گزشتہ بیس سال سے سٹریٹ کرائمز میں کوئی کمی نظر آئی ہے؟ کہنے کو پولیس بھی ہے‘ رینجرز بھی ہیں‘ ایجنسیاں بھی ہیں لیکن ڈاکو اُسی طرح دندناتے پھرتے ہیں۔ ہر گھرانے کے پاس ایک نہیں کئی کئی واقعات ہیں۔ بہت سے لوگوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ کسی اور طرف ہجرت کر جائیں لیکن یہ کام بھی کوئی آسان ہے کیا؟ گھر‘ کاروبار‘ ملازمت‘ رشتے دار اور قبریں چھوڑ کے چلے جانا بہت ہمت مانگتا ہے میاں!
گل پلازہ کا حادثہ ایسا بڑا سانحہ تھا کہ کوئی باحمیت وزیر‘ میئر‘ حکومت ہوتی تو استعفے دینے کے بعد بھی ساری عمر یہ داغ نہ جاتا لیکن آپ نے دیکھا کہ اس پر بھی کیا کیا بیانات داغے گئے‘ کیا کیا سیاست کی گئی۔ اس سانحے کی ذمہ داری کسی نے قبول کی؟ کسی رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین کیا گیا؟ لاشوں کی طرح شواہد پر بھی مٹی ڈال دی گئی۔ خونِ خاک نشیناں بہت خاموشی سے رزقِ خاک ہو گیا۔ سب کچھ اسی طرح ہے۔ خدانخواستہ اگلے کسی بڑے سانحے تک! کوئی ذمہ دار نہیں بنتا اور سچ یہ ہے کہ سب ذمہ دار ہیں۔ وہ تمام لوگ جو اَب حکومت میں ہیں‘ یا سابقہ ادوار میں حکومتوں میں رہے ہیں۔ وہ سب فیصلہ ساز جن کی آنکھوں کے سامنے کراچی برباد ہوتا رہا ور وہ دیکھتے رہے۔ میں نے دل سے پوچھا کہ کراچی میں ڈاکو کم کیوں نہیں ہوتے۔ جوا ب ملا اس لیے کہ سیاستدان اور ڈاکو کبھی ریٹائر نہیں ہوا کرتے۔ آخری سانس تک اپنے پیشے سے منسلک رہتے ہیں۔
لیکن انسان بڑی سخت جان چیز ہے۔ کراچی والے انہی مصیبتوں اور مسائل کے ساتھ رہنا سیکھ گئے ہیں۔ کچھ یہ بھی کہ ماضی قریب کے مقابلے میں حالات بہتر بھی ہوئے ہیں۔ اس بار بھی کراچی سے بہت محبتیں ملیں۔ میں وہاں تقریبات‘ محفلوں‘ مشاعروں میں شریک ہوتا رہا۔ دل سے کراچی کیلئے دعا نکلتی رہی کہ خدا اس کی رونقیں اور زندہ دلی زندہ رکھے۔ انسان ہر حال میں جینے کے راستے ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔ زندگی کا کیا ہے۔ انسان تو صحرا میں بھی زندہ رہ جاتا ہے۔ عرفان صدیقی (لکھنؤ) نے کہا تھا نا:
ہم اپنے ذہن کی آب و ہوا میں زندہ ہیں
عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں