ٹی پی ون فعال بنانے کے لیے 5 ارب روپے کی منظوری
صنعتوں کو ری سائیکل شدہ پانی کی فراہمی سے پینے کے پانی پر دباؤ کم اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا،وزیراعلیٰمرادعلی شاہ کی زیرصدارت اجلاس میں ٹی پی ون کی بحالی کی ٹائم لائن مقرر،تمام زیر التوا امور فوری حل کرنے کی ہدایت
کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں کراچی میں گندے پانی کی صفائی اور ری سائیکلنگ کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور ٹی پی ون سے 100 ایم جی ڈی پانی کی سیکنڈری ٹریٹمنٹ کو 31 دسمبر تک یقینی بنانے کے لیے 5 ارب روپے کی منظوری دے دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے 30 جون تک 30 تا 35 ایم جی ڈی پانی کی ٹریٹمنٹ کا عبوری ہدف بھی مقرر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف طویل المدتی وژن نہیں بلکہ کراچی کے عوام کو اسی سال واضح بہتری نظر آئے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ گندے پانی کی صفائی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ مراد علی شاہ نے کراچی کے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اور ری سائیکلنگ منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ٹی پی فور منصوبے کو شہر کے واٹر مینجمنٹ سسٹم کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا اور متعلقہ اداروں کو فیصلوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں جاری ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تکمیل، ٹی پی ون کی فوری بحالی، اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ٹی پی فور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اینڈ ری سائیکلنگ منصوبے کو مالیاتی کلوزنگ اور عملی آغاز کی جانب تیزی سے بڑھانے پر زور دیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ٹی پی ون 100 ایم جی ڈی صلاحیت کا پلانٹ ہے اور فوری اقدامات سے 30 جون تک 30 تا 35 ایم جی ڈی آپریشنل کیا جا سکتا ہے ۔ انہیں بتایا گیا کہ پلانٹ کو 31 دسمبر 2025 تک مکمل فعال بنانے کے لیے 5 ارب روپے درکار ہیں۔ انہوں نے مکمل حکومتی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا فنڈز فراہم کیے جائیں گے مگر کام فوری شروع ہونا چاہیے۔ کراچی کے ویسٹ واٹر مینجمنٹ میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے میئر کراچی، واٹر بورڈ اور پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ تمام زیر التوا امور فوری حل کیے جائیں تاکہ منصوبوں پر ہموار انداز میں عملدرآمد ہو سکے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صنعتوں کو ری سائیکل شدہ پانی کی فراہمی سے پینے کے پانی پر دباؤ کم ہوگا اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ زمین سے متعلق مسائل پر انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ٹی پی فور سائٹ پر اراضی کے معاملات فوری حل کیے جائیں۔