ٹریفک جام اور ٹوٹی سڑکیں ہنگامی صورتحال میں رکاوٹ بننے لگیں

 ٹریفک جام اور ٹوٹی سڑکیں ہنگامی صورتحال میں رکاوٹ بننے لگیں

بڑے شہروں میں رسپانس ٹائم 10 سے 15 منٹ ہوتاہے ، کراچی جیسے شہروں میں اس کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے ،ماہرینگلشن معمار اور سرجانی ٹائون جیسے دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں 20 سے 25 منٹ لگ جاتے ہیں،ایس ایس پی حفیظ الرحمن بگٹی

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں معمول کے ٹریفک جام اور جگہ جگہ ٹوٹے اور کھدے ہوئے راستے بھی پولیس، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کے لیے ہنگامی صورتحال میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت دنیا کے بڑے شہروں میں کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں پولیس سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کا رسپانس ٹائم مختلف ہے ، اس کا دارومدار متعلقہ جگہ کی لوکیشن، دستیاب وسائل اور ٹریفک مینجمنٹ پر ہوتا ہے ۔مجموعی طور پر دنیا کے بڑے شہروں میں رسپانس ٹائم 10 سے 15 منٹ ہوتاہے ، تاہم کراچی جیسے شہروں میں اس کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے ،جہاں غیر معمولی ٹریفک جام، دور دراز واقع علاقوں اور گنجان آبادیوں تک پہنچنے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے ۔ مددگار ون فائیو کے ایس ایس پی حفیظ الرحمن بگٹی کے مطابق کراچی میں عمومی طور پر رسپانس ٹائم 10 سے 15 منٹ ہوتاہے لیکن انفرااسٹرکچر کے مسائل اور متعلقہ علاقوں تک رسائی میں حائل مشکلات کے باعث پولیس اور دیگر اداروں کو زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلشن معمار اور سرجانی ٹائون جیسے دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں 20 سے 25 منٹ لگ جاتے ہیں۔ مذکورہ کال سینٹر کے انچارج ٹریننگ شعیب احمد کے مطابق کئی لوگ فضول قسم کی کالیں کرکے ان کا وقت بھی ضایع کرتے ہیں، مثال کے طور پر رواں سال جنوری کے مہینے میں دو لاکھ سے زائد کالیں موصول ہوئیں جن میں کارروائی کے لائق کالز کی تعداد صرف 22 ہزار تھی۔ ان کے مطابق ان میں 11 ہزار سے زائد کالز پرینک کالز تھیں۔ تجزیہ نگار فاروق راجپوت کے مطابق اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ خراب انفرااسٹرکچر اور ٹریفک جام کی وجہ سے ریسکیو اور ایمرجنسی سے وابستہ اداروں کے لیے کسی بھی جگہ بروقت پہنچنے میں رکاوٹیں ہوتی ہیں، گل پلازہ کے حالیہ سانحہ میں بھی یہ ہی دیکھا گیا کہ صدر میں چند منٹ کے فاصلے پر واقع فائر برگیڈ کی گاڑی کو بھی جائے وقوعہ پر پہنچنے میں تین گنا زیادہ وقت لگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں