امریکی فوجی اڈے خطے کی سلامتی میں معاون نہیں، دفاع میں نشانہ بنایا: ایران
تہران: (دنیا نیوز) ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران نے دفاعی کارروائیوں میں امریکی اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، خطے کے دوسرے ممالک اسے دشمنی کے طور پر نہ دیکھیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی جارحیت ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے، حملے میں ایران کے سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شہید ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں میں فوجی اور شہری انفراسٹرکچر، سکول، ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کا قانونی حق استعمال کیا ہے، ایرانی مسلح افواج حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہیں، جارحیت کے خاتمے تک ایران دفاعی کارروائیاں کرتا رہے گا۔
ایران کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عالمی قانون کے مطابق کوئی بھی ملک دوسرے ممالک پر حملےکے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا، ایرانی جوابی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ایرانی دفاعی کارروائیوں میں امریکی اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ایرانی جوابی حملوں میں خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا، ایران خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے پر قائم ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک ایرانی دفاعی کارروائیاں دشمنی کے طور پر نہ دیکھیں، امریکی اڈے خطے کی سلامتی میں معاون نہیں، امریکی فوجی اڈے جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔