نوکوٹ میں ہاری، آبادگار کانفرنس، زراعت کودرپیش مسائل پرگفتگو

نوکوٹ میں ہاری، آبادگار کانفرنس، زراعت کودرپیش مسائل پرگفتگو

زراعت کے زوال پذیر ہونے سے ہاریوں، آبادگاروں کا معاشی نقصان ہورہا، مقررینمارکیٹ میں اجناس نرخ دانستہ کم، کھاد، بیج، ادویات مہنگی مل رہیں، ہاری طبقہ پریشان

نوکوٹ (نمائندہ دنیا)سندھی ہاری تحریک کی کال پر نوکوٹ میں ہاری آبادگار کانفرنس ہوئی، جس میں سندھ کی زراعت کو درپیش سنگین مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں سے زراعت دن بدن تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے ، جس سے ہاریوں اور آبادگاروں کا معاشی استحصال ہو رہا ہے ، کانفرنس سے سندھی ہاری تحریک کے مرکزی رہنما نور محمد خاصخیلی، عوامی تحریک کے مرکزی رہنما ایڈووکیٹ ایاز کلوئی، عوامی تحریک میرپورخاص کے جنرل سیکریٹری ایاز کھوسو، تعلقہ جھڈو کے صدر ممتاز جونیجو، سندھی ہاری تحریک تعلقہ جھڈو کے صدر پروانو کپری سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ گندم سمیت دیگر فصلوں کے نرخ مارکیٹ میں دانستہ طور پر کم کروائے جا رہے ہیں، دوسری جانب کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں، جس کے باعث ہاری شدید مالی بحران کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ گندم کا 3500 روپے فی من ریٹ ہاریوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے اور سندھ حکومت ہاریوں کو مسلسل مشکلات میں دھکیل رہی ہے ، جبکہ ہاری کارڈ بھی ہاریوں کے کسی کام نہیں آ رہا، انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل ٹماٹر، پیاز اور دیگر فصلوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا، جس سے ہاریوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، مقررین نے پانی کی قلت اور غیر منصفانہ تقسیم کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بالائی علاقوں میں پانی روک لیا جاتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں