تعصب ایک حجاب ہے۔ یہ دوسروں بالخصوص مخالفین کی خوبیوں کے اعتراف میں حائل ہو جاتا ہے۔ انسان مگر اندر سے جانتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ وہ خود کو مطمئن کرنا چاہتا ہے۔ عقلِ عیار یہاں اس کی مدد کرتی اور اس کے لیے دلائل تراشتی ہے۔
حالات نے شہباز شریف صاحب اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے سر کامیابی کا سہرا باندھ دیا۔ سوشل میڈیا کے 'آبنائے ہرمز‘ پر قابض گروہ اور ان کے 'سیاسی لواحقین‘ کے لیے اس کامیابی کو ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ یہ قبضہ گروپ اپنے اور لواحقین کیاطمینان کے لیے دلائل گھڑ رہا ہے۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ وہ ان کی ٹکسال میں ڈھلے کچے پکے دلائل کو لے کر دوڑ پڑتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک میلہ لگ جاتا ہے۔ اس طرح لواحقین کو اطمینان اور قبضہ گروپ کو ڈالر ملتے ہیں۔
یہ ایک دلچسپ کھیل ہے۔ مذہبی تعصبات کی آبیاری بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ لوگ مسلکی واعظین اور ذاکروں پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ میں سوچتا تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ایک دن مجھ پر یہ عقدہ کھلا۔ ہر مسلک کے ماننے والے کو اپنی وابستگی کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے آئے دن مخالفین کے اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے جواب نہیں بن پاتا تو مدد گار ڈھونڈتا ہے۔ یہ واعظ اور ذاکر پھر اس کے کام آتے ہیں۔ وہ اس کے لیے عقلی اور نقلی دلائل تلاش کرتے‘ تراشتے اور ان کی مدد سے ایک سچا جھوٹا بیانیہ بناتے اور اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس طرح اسے اپنے مسلکی اور مذہبی تعصب کے لیے جواز مل جاتا ہے۔ وہ ان خطیبوں اور ذاکرین کو اسی کا معاوضہ ادا کرتا ہے۔ حق کی تلاش دونوں کے پیشِ نظرنہیں ہوتی۔ اس لیے دلائل تراشنے والوں کو روایت کی صحت کا لحاظ ہوتا ہے نہ عقلی دلیل کی مضبوطی کا۔ وہ صدیوں پہلے پیش آنے والے کسی حادثے میں رنگ بھرنے کے لیے ہر سال نئے واقعات گھڑتے ہیں۔ انہیں مخاطبین کی عقلی سطح اور ضرورت کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ انہیں اپنے معاوضے سے غرض ہوتی ہے اور وہ انہیں مل جاتا۔ انہیں اس سے کچھ دلچسپی نہیں ہوتی کہ وہ غارت گرِ ایمان بنتے اور گمراہی پھیلانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔
یہی کچھ سیاست میں ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے لیے ان سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے 'ذاکر و واعظ‘ پال رکھے ہیں۔ وہ ان کے حق میں بیانیہ بناتے اور ان جماعتوں کے حامیوں کو وابستہ رکھنے کے لیے انہیں 'دلائل‘ فراہم کرتے ہیں۔ وہ مذہبی بیانیہ سازوں کی طرح سچ جھوٹ کی تمیز کے قائل نہیں۔ ان کا کام سیاسی تعصبات کو باقی رکھنا ہے۔ آج جب وقت نے ایک عزت شہباز شریف صاحب کے مقدر میں لکھ دی ہے تو وہ ان سے چھیننا چاہتے ہیں۔ تاریخ سے لڑنا چونکہ ممکن نہیں ہوتا اس لیے کھسیانی بلی کھمبا نوچتی رہ جاتی ہے۔ ساری دنیا کو یہ کامیابی دکھائی دے رہی ہے۔ میڈیا اور سیاسی راہنما اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہکہ معاہدے کے فریق اسلام آباد میں جمع ہیں۔ اگر پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے تو یہ لوگ یہاں کیوں آ رہے ہیں؟ یہ سوال مگرعقلِ سلیم والوں کے لیے ہے اور تعصبات کی وادی سے اس کا گزر نہیں ہوتا۔
اس حکمتِ عملی کا توڑ علاج بالمثل کے طریقے پرکیا جا رہا ہے۔ کرکٹ کے باب میں ایک کامیابی تاریخ نے عمران خان صاحب کے مقدر میں لکھ دی۔ وہ اُس پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے جس نے ورلڈ کپ جیتا۔ اب کیسے ممکن ہے کہ کرکٹ کی بات ہو اور اس میں عمران خان کا ذکر نہ ہو؟ آج مگر یہی ہو رہا ہے۔ کرکٹ کی تاریخ عمران خان صاحب کے ذکر کے بغیر لکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس کوشش نے ظاہر ہے ناکام ہی ہونا ہے۔
تعصبات سے بلند ہونا مشکل کام ہے۔ کم لوگ ہی یہ بھاری پتھر اٹھا سکتے ہیں۔ اگر یہ آسان کام ہوتا تو لوگ مسلکی اور مذہبی تعصبات میں اتنے پختہ نہ ہوتے۔ نسلیں ان تعصبات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ دیوبند کا مدرسہ 1866ء میں قائم ہوا۔ بریلوی مسلک کے امام مولانا احمد رضا‘ مولانا اشرف علی تھانوی کے ہم عصر تھے۔ ایک صدی سے زیادہ وقت گزر چکا‘ یہ تعصبات نہ صرف قائم ہیں بلکہ روز افزوں ہیں۔ سائنسدان ثابت کر چکے کہ زمین متحرک ہے۔ ایک طبقہ آج بھی اسے ساکن مانتا ہے کہ ان کے امام کی رائے یہی تھی۔ آدمی سوچتا ہے کہ بظاہر معقول دکھائی دینے والا ایک آدمی ایسے دلائل کو کیسے جھٹلا سکتا ہے؟ جب ہم اسے تعصب کے پیراڈائم میں رکھ کر دیکھتے ہیں تو سب سمجھ میں آنے لگتا ہے۔
اس مشکل کام کو کیا آسان بنایا جا سکتا ہے؟ آسان تو نہیں مگر ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک شرط نظری ہے اور ایک عملی۔ نظری شرط یہ ہے کہ سیاست ہو یا مذہب‘ ہم سچ کے متلاشی بنیں۔ دل کو قبولیتِ حق کے لیے ہمیشہ آمادہ رکھیں۔ اپنی باگ عقل کے ہاتھ میں دیں جو مشاہدے اور تجربے کی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ عملی شرط یہ ہے کہ معلومات کا مستند ذریعہ تلاش کریں۔ جو آدمی ان شرائط کو پوراکر لے‘ غالب امکان یہ ہے کہ وہ صحیح بات تک پہنچ جائے گا۔ مذہب میں اس کا مطمح نظر اللہ تعالیٰ کے منشا کو جاننا ہو۔ اس کے مستند ذرائع قرآن وسنت اور نبیﷺ سے منقول صحیح روایات ہیں۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ شرح و وضاحت ہے‘ ماخذ نہیں۔سیاست میں پیشِ نظر یہ معلوم کرنا ہو کہ کون سی جماعت یا فرد ملک و قوم کو بہتر قیادت فراہم کر سکتے ہیں؟ یہ جاننے کا مستند ذریعہ وہ اہلِ علم اور ذرائع ابلاغ ہیں جن پر دنیا کو بالعموم اعتبار ہوتا ہے۔
اب اس کا اطلاق موجودہ حالات پر کریں۔ جنگ بندی میں پاکستان کا کردار کیا ہے؟ اس کے لیے مستند معلومات کا ماخذ سوشل میڈیا میں متحرک سیاسی جماعتوں کے پروپیگنڈا سیل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ ایرانی اور امریکی قیادت کیا کہہ رہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کیا خبر دے رہے ہیں۔ مشاہدہ کیا ان کی خبروں کی تائید کر رہا ہے۔ عالمی سیاسی راہنماؤں کا موقف کیا ہے۔ معاہدے کے لیے مذاکرات کہاں ہو رہے ہیں۔ ان سوالات کے جواب گمانِ غالب ہے کہ ہمیں درست نتائج تک پہنچا دیں۔
صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم خلطِ مبحث سے بچیں۔ دو غیرمتعلق امور کو خلط ملط نہ کریں۔ یہ حکومت اگر کسی کے نزدیک عوام کی رائے سے قائم نہیں ہوئی تو اس بات کا جنگ بندی کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دو الگ موضوعات ہیں۔ یہ بات کہ جنرل ضیا الحق مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے‘ امرِ واقعہ ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا۔ یہ واقعہ کہ عمران خان مقتدر قوتوں کا ایک پروجیکٹ تھے اور یہ حقیقت کہ وہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان تھے‘ دو الگ باتیں ہیں۔ ضیا الحق مرحوم کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ماننے سے اس بات کی نفی نہیں ہو جاتی کہ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا۔
یہ سب عقل کی باتیں ہیں اور تعصب وہ حجاب ہے جو عقل کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اس حجاب کو ہٹانا ایک مشکل کام ہے۔ کم لوگ ہی اس گھاٹی سے گزر سکتے ہیں۔ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ یہ دعا مانگا کرتے کہ اے اللہ مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسی وہ ہیں۔ گویا تعصب جیسا کوئی پردہ میرے اور حالات و واقعات کے مابین حائل نہ ہو۔ ہمیں بھی یہی دعا کرنی چاہیے۔ تعصب وہ حجاب ہے جو پہاڑ جیسی چیزوں کو ہماری نگاہوں سے اوجھل کر دیتا ہے۔