سکھر:ڈیوائس ہولڈرز کی چاندی، اسکالر شپ سے بھی مبینہ کٹوتی

سکھر:ڈیوائس ہولڈرز کی چاندی، اسکالر شپ سے بھی مبینہ کٹوتی

بچوں کی رقم 20فیصد تک منہا کی جانے لگی، شکایات پرانتظامیہ، حکام خاموشکاٹی گئی رقم سے معقول حصہ متعلقہ حکام تک بھی پہنچایا جارہا ہے ، ڈیوائس ہولڈر

سکھر(بیورو رپورٹ)سکھر ڈویژن میں ڈیوائس ہولڈرز کی چاندی ہوگئی، بی آئی ایس پی کے بعد اب بچوں کی اسکالر شپ سے بھی دس سے بیس فیصد کٹوتی کرنے لگے ، شکایات پر متعلقہ حکام اور انتظامیہ نے چشم پوشی اختیار کرلی ۔ ڈیوائس ہولڈرز نے رمضان میں مستحق خواتین کی آئی ساڑھے چودہ ہزار روپے فی کس کی قسط میں سے کٹوتی کرکے لاکھوں روپے بنانے کے بعد اب بی آئی ایس پی کی جانب سے مستحق بچوں اور بچیوں کے لیے جاری اسکالر شپ کی رقم میں سے بھی کٹوتی کرنے کا سلسلہ شروع کردیا، ایک ڈیوائس ہولڈرز کے مطابق اسکالر شپ کی رقم میں سے فی کس دس سے بیس فیصد کٹوتی کی جارہی ہے اور اس میں سے معقول حصہ بی آئی ایس پی حکام تک بھی پہنچایا جارہا ہے۔

جس سے وہ بی آئی ایس کی مستحق خواتین کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، دوسری جانب متعدد مستحق خواتین جن کے بچوں کے نام پربی آئی ایس پی کی اسکالر شپ کی رقم آتی ہے ، کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار شکایت کی مگر کارروائی نہیں ہوئی، اس لیے کہ ان کی شکایات پر کوئی کان دھرنے والا نہیں ہے ۔ انہوں نے بی آئی ایس پی کے حکام کے علاوہ مقامی انتظامیہ سے بھی شکایات کی ہیں مگر کوئی توجہ نہیں دی گئی،اس صورتحال پر سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مستحق خواتین کی امدادی رقم میں سے کٹوتی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں