جیکب آباد:گندم کے خریداری مراکز نایاب، کاشتکار لٹنے لگے
ڈی ایف سی برطرفی کے بعد عہدہ خالی، چھوٹے کاشتکار اونے پونے گندم بیچنے لگےآبادگار معاشی تباہی کے دہانے پر، سرکاری مراکز کی بندش سے مڈل مین کوفائدہ
جیکب آباد (نمائندہ دنیا)جیکب آباد میں گندم کی خریداری کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی شدید بحران کا شکار ہوگیا۔ سرکاری خریداری مراکز بند ہونے اور محکمہ خوراک میں افسران کی عدم موجودگی سے آبادگار معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، جبکہ بیوپاریوں نے ملی بھگت سے گندم کے نرخ گرا کر لوٹ مار شروع کر دی۔شہر میں گندم خریداری کے مراکز تاحال فعال نہیں ہو سکے ۔ مبینہ اسمگلنگ کے الزامات پرسابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرکو عہدے سے ہٹایا گیا، جس کے بعد سے عہدہ خالی ہے ۔ حیرت انگیز طور پر اہم سرکاری دفتر ایک پرائیویٹ ملازم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، جو سرکاری امور چلا رہا ہے ۔گندم کی خورد برد اور بدعنوانی کے الزامات پر اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے جیکب آباد کے فوڈ سپروائزر اور انسپکٹر کو حراست میں لے لیا۔
سرکاری مراکز بند ہونے کا براہِ راست فائدہ بیوپاریوں اور مڈل مین کو پہنچ رہا ہے ۔ سرکاری ریٹ نہ ملنے سے بیوپاریوں نے گندم کے نرخ جان بوجھ کر گرا دیے ہیں۔ چھوٹے آبادگار اور کاشتکار اپنی فصل کو محفوظ رکھنے کی جگہ نہ ہونے کے باعث کم ریٹ پر گندم فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ آبادگار رہنماؤں نے سندھ حکومت اور وزیرِ خوراک سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایماندار ڈی ایف سی تعینات اور خریداری مراکز کھولے جائیں، تاکہ کاشتکار کو اس کی محنت کا پورا صلہ مل سکے پرائیویٹ افراد کی مداخلت ختم کر کے محکمے کو کرپٹ عناصر سے پاک کیا جائے۔