"RKC" (space) message & send to 7575

ایک تھا گورا،ایک تھا جے شنکر

گیارہ اپریل بروز ہفتہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نہایت اہم اور تاریخی دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ آنے والے دنوں اور برسوں میں جب عالمی جرائد اور اخبارات میں اس دن پر مضامین لکھے جائیں گے یا چند بڑے لوگ جب اپنی یادداشتیں لکھیں گے تو اس میں اس دن کا ذکر ضرور کریں گے کہ آخر امریکہ اور ایران جنگ کے دہانے سے اسلام آباد کیسے پہنچے اور وہاں بند کمروں میں کیا کچھ طے پایا تھا۔
جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کی ملاقاتیں جاری ہیں۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ ان ملاقاتوں کا کیا نتیجہ نکلے گا‘ بہر حال نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن دو جنگوں نے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں بہت بلند کر دیا ہے۔ پہلی گزشتہ سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ اور دوسری رواں سال فروری کے آخر میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ تھی۔ دونوں نہایت خطرناک نوعیت کی جنگیں تھیں‘ دونوں میں نیوکلیئر تصادم کا خطرہ موجود تھا اور دونوں میں پاکستان کسی نہ کسی صورت براہِ راست یا بالواسطہ شامل رہا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ نریندر مودی کا وہی ''آپریشن سیندور‘‘ جسے بھارتی میڈیا نے کسی بلاک بسٹر فلم کی طرح پیش کیا تھا‘ اب مودی حکومت کے خلاف ایک چارج شیٹ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اب بھارت میں یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ اگر یہ حملہ نہ کیا جاتا تو آج پاکستان کا قد عالمی سطح پر اتنا بلند نہ ہوتا جتنا اب ہو چکاہے۔ ایک سال پہلے بھارت جہاں کھڑا تھا وہاں سے وہ اچانک نیچے آ گرا ہے اور بھارتی قیادت حیران و پریشان ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔ بھارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم تو پاکستان کے خلاف دنیا کو اکٹھا کرنے نکلے تھے تاکہ اسلام آباد کو تنہا کر سکیں مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور ہم خود تنہا ہو گئے۔ ایک معروف بھارتی ویلاگر کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد دورے کیے تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کیا جا سکے‘ مگر آج بھارت خود تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔ اگر ڈیڑھ سو دوروں کا دعویٰ مبالغہ ہو تو بھی گوگل کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں جے شنکر کی جانب سے سو کے قریب بیرونی دورے تو یقینی طور پر کیے گئے ہیں۔ اس ویلاگر کا کہنا تھا کہ اس کیریئر ڈپلومیٹ کو بی جے پی حکومت میں اس امید پر لایا گیا تھا کہ وہ اپنی مہارت اور سفارتی پس منظر کی بنیاد پر پاکستان کو سخت سفارتی دباؤ میں لے آئے گا مگر اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔ اس کے مطابق طویل عرصے بعد کوئی غیرسیاسی شخصیت بھارت کی وزیر خارجہ بنی مگر بھارت عالمی سطح پر مزید تنہا ہو گیا جبکہ ماضی میں سیاسی وزرائے خارجہ عالمی معاملات کو زیادہ بہتر انداز میں سنبھالتے تھے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جب جے شنکر نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن رہنماؤں کو موجودہ بحران پر بریفنگ دی اور ان سے پاکستان کی امن کوششوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے نامناسب زبان استعمال کی‘ جس پر دنیا بھر میں حیرت کا اظہار کیا گیا۔ ایک ایسے کیریئر ڈپلومیٹ سے‘ جس کا خاندانی پس منظر بھی سفارت کاری سے جڑا ہو‘ اس طرح کی غیر سفارتی زبان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ اگرچہ بھارت میں عمومی طور پر تجزیہ کار اور اینکرز پاکستان پر تنقید کرتے رہتے ہیں مگر اس موقع پر جے شنکر کے الفاظ نے خود بھارتی حلقوں کو بھی حیران کر دیا اور بعض نے اس کی مذمت بھی کی۔ یہ طرزِ عمل دراصل اس دباؤ اور مایوسی کا نتیجہ ہے جس کا اس وقت بھارتی حکومت سامنا کر رہی ہے۔ اب گودی میڈیا کی تنقید کا رخ بھی نریندر مودی اور جے شنکر کی طرف مڑ چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی کے قریبی ساتھی اجیت ڈوول‘ جو قومی سلامتی کے مشیر ہیں اور بھارت کے جدید چانکیہ سمجھے جاتے ہیں‘ ان حالات میں منظر سے غائب ہیں۔ یہ بھی ان کی حکمت عملی تھی کہ ایران پر حملوں سے دو دن قبل مودی اسرائیل پہنچے‘ جہاں ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا اور تقاریر ہوئیں۔ اسرائیل کے لیے انہوں نے جذباتی انداز میں ''فادر لینڈ‘‘ جیسے الفاظ بھی استعمال کیے۔ ایرانیوں کے لیے یہ ایک بڑا جھٹکا تھا کیونکہ ماضی میں وہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دیتے رہے تھے‘ خاص طور پر شاہِ ایران کے دور میں پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود انقلاب کے بعد ان تعلقات کا توازن بدل گیا تھا۔ اگرچہ پاکستان اور ایران کے تعلقات برقرار رہے مگر گرمجوشی بھارت کے حصے میں آئی اور اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ یہی عالمی سیاست کا اصول ہے کہ مذہب‘ زبان یا ثقافت سے بڑھ کر قومی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایران نے بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ تک رسائی دی اور بھارت نے وہاں سرمایہ کاری بھی کی۔ تاہم ایران پر حملے سے قبل مودی کا اسرائیل میں ہونا اور بعد ازاں اسرائیلی حملوں میں ایرانی قیادت کا نشانہ بننا ایران کے اندر کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان حملوں میں ہونے والی شہادتوں پر بھارت نے نہ صرف مذمت سے گریز کیا بلکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت بھی نہیں کی۔ یہ معاملہ یہیں نہیں رکا۔ جب بھارتی پانیوں میں ایک ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے میں 87ایرانی اہلکار جاں بحق ہوئے تو بھی بھارت خاموش رہا حالانکہ یہ جہاز اور اس کے اہلکار بھارتی حکومت کی دعوت پر مشقوں میں شرکت کے لیے آئے تھے اور ایک پریڈ کا بھی حصہ بنے تھے۔ اس خاموشی نے ایران کو واضح پیغام دیا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے حتیٰ کہ ایران میں 168معصوم بچیوں سمیت بڑے جانی نقصان پر بھی اس نے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔ بھارت کے اندر بھی اس خاموشی پر شدید ردِعمل سامنے آیا کہ آپ نے ایران کے ساتھ 47برس پر محیط تعلقات کو کیسے نظر انداز کر دیا۔ بھارتی میڈیا نے ایران کی پرو کشمیر پالیسی اور صدیوں پرانے ثقافتی روابط کا حوالہ دیا۔ تعلیم یافتہ بھارتیوں کے لیے یہ بات ناقابلِ یقین تھی کہ ان کا ''وِشو گرو‘‘ اس حد تک امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ میں آ جائے گا کہ وہ انسانیت سوز اسرائیلی اقدامات مذمت تک نہیں کر سکے گا۔
اب بھارتی چینلز پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پاکستان میں کیوں ہو رہے ہیں‘ ان کے بقول یہ مذاکرات نئی دہلی میں ہونے چاہئیں تھے کیونکہ ان کے ایران کے ساتھ طویل سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں اور امریکہ کے ساتھ بھی دہائیوں پر محیط سٹریٹجک شراکت داری موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ ایسے ملک کو کیوں اہمیت دے جسے خطے میں چین کے مقابلے کیلئے تیار کیا گیا ہو مگر وہ اس کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا ہو اور اپنے سے کہیں چھوٹے ملک پاکستان کے سامنے مؤثر ثابت نہ ہو سکا ہو۔ اسی طرح ایران بھی ایسے ملک پر کیوں اعتماد کرے جس کا وزیراعظم حملوں سے چند روز قبل اسرائیلی قیادت کے ساتھ کھڑا تھا اور اسرائیل کو فادر لینڈ کہہ رہا تھا۔ جب کسی ملک کی قیادت خود کو حد سے زیادہ چالاک سمجھنے لگے تو نتائج بھی ایسے ہی نکلتے ہیں جیسے آج بھارت کو درپیش ہیں۔ جے شنکر کے سفارتی دوروں کے باوجود بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو چکا ہے اور اب بھارتی سیاستدان اور اینکر سارا دن پاکستان پر تنقید کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔
اب میرے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ برطانوی دور میں سرکاری افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ برس مقرر کرنے میں شاید کوئی دانائی تھی۔ اگر مودی اور اجیت ڈوول ایک ستر سالہ ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو وزیر خارجہ بنائیں گے تو پھر انہیں اسی قسم کے نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے جن کے ڈر سے انگریز نے ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال مقرر کی تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں