جنگ بندی کے باوجود لبنان پرحملہ ریاستی دہشت گردی، تنظیم اسلامی

جنگ بندی کے باوجود لبنان پرحملہ ریاستی دہشت گردی، تنظیم اسلامی

اسلام آباد اکارڈز کے تحت ایران سے مذاکرات کیلئے کٹر صیہونیوں کی نامزدگی معنی خیزلبنان پر100سے زائد بم گرانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے ، شجاع الدین شیخ

حیدر آباد (بیورو رپورٹ)جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل کا لبنان پر شدید ترین حملہ ریاستی دہشت گردی ہے ۔ اسلام آباد اکارڈز کے تحت ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی وفد میں کٹر صیہونیوں کا نامزد کیا جانا معنی خیز ہے ۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیرشجاع الدین شیخ نے بیان میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی کی ثالثی سے طے پانیوالی ایران، امریکہ عارضی جنگ بندی معاہدے کا مقصود مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنا تھا، لیکن معاہدے کے بعد بھی ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کی لبنان پر شدید ترین بمباری جاری ہے جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے ۔ لبنان پر 100 سے زائد بم گرانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم سے کم نہیں۔

درحقیقت نیتن یاہو خون کی ندیاں بہانے پر تُلا ہوا ہے ۔ اُنہوں نے سوال اُٹھایا کہ ‘‘بورڈ آف پیس’’ نامی ادارہ اِس تشویشناک صورتِ حال میں کیا کردار ادا کر رہا ہے ؟ مسلم ممالک کو ایسے تمام اداروں کو خیرباد کہہ دینا چاہیے جو صرف اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ ایران، امریکہ مذاکرات پر انہوں نے کہا کہ اِن مذاکرات کا مقصد خطے میں مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن کے قیام کا فارمولا طے کرنا ہے لیکن امریکہ نے اِن مذاکرات میں شرکت کے لیے جس 3 رکنی وفد کا اعلان کیا، اُس میں نائب صدر جے ڈی وینس، کٹر صیہونی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں، جس سے صاف ظاہر ہے امریکی وفد مذاکرات میں اسرائیلی نمائندگی کریگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں