اسپرے مہم شروع نہ ہوسکی،مچھروں کی بہتات،ملیریا میں خطرناک اضافہ

 اسپرے مہم شروع نہ ہوسکی،مچھروں کی بہتات،ملیریا میں خطرناک اضافہ

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)انتظامیہ کی غفلت اور جراثیم کش اسپرے نہ ہونے کی وجہ سے مچھروں کی نشوونما میں تیزی آگئی ہے جبکہ مچھروں کے کاٹنے کے بعد ملیریا کے کیسز میں خوفناک اضافہ ہورہا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق جنوری سے 17 مارچ تک کراچی میں ملیریا کے 128 کیسز رپورٹ ہوئے ، جن میں ضلع جنوبی سے سب سے زیادہ 47 کیسز سامنے آئے ۔ ضلع ملیر میں 41، ضلع غربی میں 20، کورنگی میں 14، ضلع شرقی میں 4 اور ضلع وسطی میں ملیریا کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ضلع کیماڑی میں ملیریا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔علاوہ ازیں شہر کے نجی اسپتالوں اور محلوں میں موجود کلینکس کے ڈاکٹرز کے مطابق ان کے پاس بخار کی شکایت سے آنے والے 80 فیصد مریضوں میں ڈینگی اور چکن گونیا کی علامات پائی جاتی ہیں، تاہم مہنگائی کی وجہ سے مریض ٹیسٹس نہیں کروا پاتے ۔اس وقت کراچی میں چکن گونیا کے ٹیسٹ کی نارمل فیس 4 ہزار روپے جب کہ ڈینگی کے ٹیسٹ کی فیس بھی 2 ہزار روپے تک ہے ، اس لیے ڈاکٹرز کمپلیٹ بلڈ کائونٹ (سی بی سی) ٹیسٹ سے اندازہ لگا کر مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں