حکومتی نااہلی سے طلبہ کے مستقبل کو خطرہ، منعم ظفر
کب تک طلبہ صوبائی حکومت کی کرپشن اور بدانتظامی کی سزا بھگتتے رہیں گے اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود کچرے کے ڈھیر،سیوریج لائنیں تباہ ہیں
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کے ہمراہ ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں جاری میٹرک بورڈ کے امتحانات میں حکومتی نااہلی اور بدانتظامی کے باعث لاکھوں طلبہ کا مستقبل خطرے میں ہے ۔آخر کب تک کراچی کے طلبہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کی نااہلی،کرپشن اور بدانتظامی کی سزا بھگتتے رہیں گے ،امتحانات شروع ہوئے تو 520 امتحانی مراکز میں سے بیشتر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ،پانی ہے ، نہ بجلی اور نہ ہی مناسب فرنیچر، بعض مراکز پر بدنظمی کی انتہا دیکھنے میں آئی ۔ تعلیمی نظام میں کرپشن عروج پر ہے ، امتحانی مراکز فروخت کیے جا رہے ہیں۔
صوبہ سندھ میں تعلیمی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت عوام کو حقیقی ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے ۔ پٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی عوام کے ساتھ مذاق ہے جبکہ حکمران اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہم قابض میئر کی سرپرستی میں سٹی کونسل میں پیپلزپارٹی کی جانب سے بدترین فسطائیت کا مظاہرہ کرنے اور جماعت اسلامی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر تیمور احمد کو تشدد کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
کونسل کو جھوٹ، دھونس اور غیر جمہوری طریقوں سے چلایا جا رہا ہے اور قراردادیں بغیر رائے شماری غیر قانونی طور پر منظور کی جا رہی ہیں۔منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے بلدیاتی اور ترقیاتی ادارے بدترین کرپشن کا شکار ہیں۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، واٹر کارپوریشن اور کے ایم سی کے اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود کچرے کے ڈھیر، ٹوٹی سڑکوں اور تباہ حال سیوریج نظام کا شکار ہے ۔