حیدر آباد:اوپن مارکیٹ میں 100کلو گندم 10ہزار میں فروخت
جمعرات کومزید 600روپے کا اضافہ،ذخیرہ اندوزوں کی کسانوں سے خریداری حکومتی رٹ چیلنج، نجی گوداموں میں ذخیرہ کرنے لگے ، حکومتی ہدف مشکل ہوگیا
حیدرآباد (بیورورپورٹ)100کلو گندم کی قیمت میں مزید 600 روپے اضافہ ہوگیا، بدھ کے روز اوپن مارکیٹ میں 9400 میں فروخت ہونے والی 100 کلو گندم کی بوری جمعرات کے روز 600 سو روپے اضافے کے ساتھ 10 ہزار تک پہنچ گئی، ذخیرہ اندوزوں نے کسانوں سے بھاری مقدار میں گندم خرید کر غیر قانونی طور پر خفیہ نجی گوداموں میں ذخیرہ کرلی، سندھ حکومت اور محکمہ خوراک کی ناقص حکمت عملی سے آبادگاروں کو گندم کی پانچ بوری فروخت کی پابندی ختم کرنے کے باوجود خریداری کا سرکاری ہدف پورا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ سندھ کابینہ محض اعلانات تک محدود ہے ، جبکہ انتظامیہ نے چپ سادھ لی، سندھ میں ماضی کی طرح ایک بار پھر گندم بحران پیدا کرنے کے لئے محکمہ خوراک کے راشی اور کرپٹ افسران کی مبینہ ملی بھگت ، سست روی اورمبینہ سرپرستی میں ذخیرہ اندوزوں نے کمر کس لی، فصل اترنے کے ایک ماہ کے دوران 100 کلو گندم کے نرخ جوکہ 7800 بتائے جاتے ہیں میں اب تک 2200 سو روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوچکا ہے ۔ اگر حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کو لگام نہ ڈالی تو آئندہ چند دنوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے ۔ واضح رہے کہ سندھ حکومت نے رواں سال آبادگاروں سے کم و بیش 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے ، خریداری کے لئے ہاری کارڈ کا اجراء اور چھوٹے کاشتکاروں سے پانچ بوری گندم خریدنے کی پالیسی جاری کی جس پر محکمہ خوراک سندھ کے افسران جو ماضی میں بھی دانستہ طور پر گندم خریداری میں تاخیری حربے استعمال کرتے آئے ہیں۔