"RKC" (space) message & send to 7575

امریکہ ایران کی لڑائی میں…

مجھے ایران کے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے نہ آنے کی خبر پر ہرگز حیرانی نہیں ہوئی۔ ایک دلچسپ بات بتاؤں کہ جب جنگ بندی ہوئی اور اسلام آباد میں گیارہ اپریل کو مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ہونا تھا تو میں نے نو اپریل کو اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ میرے خیال میں ابھی ان دونوں ملکوں کے درمیان بریک تھرو نہیں ہو گا۔ وجہ بھی بتائی تھی کہ ان دونوں ملکوں کی دشمنی بہت پرانی ہے اور اب اس میں 40سے زائد ایرانی لیڈروں کے علاوہ تین ہزار شہریوں بالخصوص 168سکول کی بچیوں کا لہو بھی شامل ہو چکا ہے۔ لہٰذا ایران کیلئے اتنی جلدی امریکہ سے ہاتھ ملانا یا اس کی ساری شرائط ماننا آسان نہیں ہو گا۔ اسی طرح امریکہ کیلئے بھی پہلی ملاقات میں سب فاصلہ طے کر لینا مشکل ہو گا۔ دونوں ملکوں کو خود پر بہت زعم اور غرور ہے جو انہیں اتنی آسانی سے ڈیل نہیں کرنے دے گا۔
امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ وہ اکلوتا شیر ہے جو دنیا میں جہاں چاہے انڈے دے یا بچے دے۔ وہ دنیا کے مختلف ملکوں کو تباہ و برباد کرنے کی لمبی تاریخ رکھتا ہے۔ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان ملکوں میں عوام پر کیا گزری۔ امریکیوں کے نزدیک اپنے مفادات اہم ہیں‘ جس کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ان سے پوری دنیا ڈرتی ہے تو ایران کو بھی ڈرنا چاہیے۔ دوسری طرف ایرانی قوم ہے جسے اپنی پانچ ہزار سالہ تاریخ پر بہت فخر‘ بلکہ غرور ہے۔ افغانوں کی طرح وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں شکست نہیں دی جا سکتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ‘ جس کی تاریخ صرف پانچ‘ چھ سو سال پرانی ہے‘ وہ بھلا کیسے پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے۔ ایرانی دنیا کو اپنی قوم کی بہادری‘ مزاحمت اور سروائیول کی کہانیاں سناتے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایک دھمکی دیتے ہیں تو ایرانی جواباً دو دھمکیاں دیتے ہیں۔ ان دھمکیوں میں پوری دنیا قیدی بن کر رہ گئی ہے۔ اگر ان حالات میں دونوں ملکوں میں فوری ڈیل ہو جاتی تو شدید حیرانی ہوتی کہ اچانک اسلام آباد میں ایسا کیا ہوا کہ اتنی خوفناک جنگ کے بعد دونوں ملکوں کی قیادت نے صلح کر لی۔ شاید ایران میں اس پر زیادہ سوالات اٹھتے کہ جنہوں نے ہمارے آیت اللہ علی خامنہ ای‘ ہماری لیڈر شپ‘ بچوں اور خواتین کو شہید کیا‘ آپ ان سے وہ مذاکرات کر کے آ گئے جس پر امریکہ خوش ہے۔ ایرانی قیادت اگر ایرانیوں کا فائدہ دیکھ کر ڈیل کرے گی تو بھی ایرانی قوم جلدی راضی نہیں ہو گی۔ لہٰذا میری رائے تھی کہ پہلی دفعہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔
اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ میرے پاس کوئی بہت بڑی خبر یا سکُوپ تھا۔ یہ محض میرا اُس صورتحال پہ تجزیہ تھا۔ جب آپ کو انسانی تاریخ کے مطالعے کا شوق ہو‘ روزانہ عالمی اخبارات‘ جرائد اور قومی اخبارات کو غور سے پڑھتے ہوں اور بڑے بڑے لیڈروں کو فالو کر کے انہیں پڑھتے اور سنتے ہوں تو آپ کے اندر بھی تجزیے کی صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے کہ حالات اب کیا رخ اختیار کریں گے۔ لہٰذا یہ محض میرا تجزیہ تھا۔ اب جب دوبارہ مذاکرات ہونے لگے تو میری پروگرام میزبان نے پوچھا کہ اب کی دفعہ کیا تجزیہ ہے‘ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ میں نے کہا کہ اب کی دفعہ حالات دیکھتے ہوئے میرا تجزیہ کچھ مختلف ہے۔ اب کی دفعہ جو مذاکرات ہوں گے وہ اُس وقت ہوں گے جب فریقین پہلے ہی سے سب کچھ طے کر لیں گے۔ اس کے بغیر بات چیت نہیں ہو گی۔ پہلے بیک ڈور چینلز کے ذریعے متنازع معاملات کو حل کیا جائے گا اور پھر فریقین اسلام آباد میں صرف ہاتھ ملانے اور دستخط کرنے کیلئے ملیں گے۔ لہٰذا دوسرا راؤنڈ بہت اہم ہے اور اب کی دفعہ اسے پہلے راؤنڈ کی طرح جلد بازی میں ضائع نہیں کیا جائے گا۔ پھر کہوں گا یہ صرف تجزیہ ہے‘ کوئی اندرونی خبر نہیں۔ جب آپ دونوں ملکوں کا پس منظر اور تاریخ جانتے ہوں تو پھر یہ سب کچھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔
دوسری طرف ایران کا اسلام آباد نہ آنا شاید اچھا سفارتی اشارہ نہیں ہے۔ یا تو آپ پہلے دن ہی مذاکرات سے انکاری ہو جاتے اور پہلے راؤنڈ میں بھی شرکت نہ کرتے کہ ہمارے امریکہ کے ساتھ ایسے شدید مسائل ہیں کہ ہم ان سے ہاتھ ملانا تو دور کی بات‘ ان کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ لیکن جب آپ مذاکرات کی میز پر آ جاتے ہیں اور آپ کے دوست آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو پھر دوستوں کا بھی کچھ لحاظ رکھنا ہوتا ہے۔ پاکستان نے جس طرح ایران کی مدد کی‘ میرا نہیں خیال دنیا میں کوئی اور ملک اتنا کھل کر سامنے آیا ہے۔ ایران کا سب کو علم ہے کہ وہ بھارت کے زیادہ قریب رہا‘ لیکن اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد جو رویہ بھارت نے اختیار کیے رکھا وہ ایرانیوں سے زیادہ بھارتی شہریوں کیلئے حیران کن ہے کہ ایرانی لیڈرشپ پر قاتلانہ حملوں کی نہ صرف مذمت نہیں کی گئی بلکہ ایران سے تعزیت بھی نہیں کی گئی۔ نہ ہی مودی نے امریکی یا اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی‘ بلکہ ایران پر حملے سے دو دن پہلے نریندر مودی نیتن یاہو کو گلے لگا کر فادر لینڈ‘ مدر لینڈ کی باتیں کر رہے تھے اور دو دن بعد پوری ایرانی قیادت ختم کر دی گئی۔
اب انڈین ٹی وی چینلز پر ایرانی صحافی‘ یونیورسٹی پروفیسرز اور دیگر دانشور صبح وشام نظر آتے ہیں۔ انڈین چینلز ان سے پہلا سوال ہی پاکستان کے خلاف زہریلے انداز میں کرتے ہیں۔ اب تک میں نے کسی ایرانی صحافی‘ دانشور یا حکام کو ان چینلز پر یہ کہتے نہیں سنا کہ آپ لوگ کس منہ سے یہ بات کر رہے ہیں کہ آپ کے اور ہمارے اتنے قریبی تعلقات تھے بلکہ پاکستان سے بھی زیادہ‘ لیکن آپ اتنی جرأت نہیں کر سکے کہ ایران پر حملوں کی مذمت ہی کر دیتے یا آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر جانی نقصانات پر تعزیت ہی کر لیتے۔ آج وہ پاکستان کے بارے میں زہر اگل رہے ہیں‘ جو پچھلے سال جون میں بھی ایران کے ساتھ کھڑا تھا اور اب کی دفعہ بھی امریکہ کو ایران کا بڑا نقصان کرنے سے روک کر اسے میز پر لایا ہے۔ مان لیا کہ اسلام آباد کا ماضی میں جھکاؤ امریکہ کی طرف رہا ہے‘ لیکن یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے ایران میں تین دن گزارے‘ ایران کو اخلاقی طور پر ہی مذاکرات میں شرکت کرنا چاہیے تھی۔ بھلے وہ امریکی ڈیمانڈ نہ مانتے‘ لیکن اسلام آباد مذاکرات کیلئے آنا چاہیے تھا۔اسلام آباد آ کر امریکیوں سے مل کر کسی معاہدے سے انکار کر دیتے اور وہیں یہ شرط رکھتے کہ پہلے ناکہ بندی ختم کریں۔ یہ بات ایران کو اسلام آباد میں کرنی چاہیے تھی۔ اگر پاکستان امریکہ کے قریب رہا ہے تو اس قربت کا فائدہ ایران کو ہوا کہ اسے مزید بربادی سے بچایا گیا‘ جو شاید اسرائیل کا ایجنڈا تھا۔ ایران کو پاکستان کی ساکھ امریکیوں کے سامنے مزید مضبوط کرنے کی ضرورت تھی تاکہ وہ ان کیلئے مزید رعایتیں حاصل کر سکتا۔ جب ایران اسلام آباد آنے سے انکار کرے گا تو اس سے پاکستان کا امریکیوں پر تاثر تو متاثر ہو گا ہی‘ زیادہ نقصان خود ایران کو ہو گا۔ ایران کو پاکستان بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اسلام آباد آنا چاہیے تھا۔ یہ ضد کہ پہلے سمندری محاصرہ ختم کرائیں‘ پھر اسلام آباد آئیں گے تو نہ آنے سے کیا یہ محاصرہ ختم ہو گیا؟ میں شرطیہ کہتا ہوں کہ اگر ایران 21اپریل کو اسلام آباد آ جاتا تو ان مذاکرات میں جے ڈی وینس یہ محاصرہ ضرور ختم کرا دیتے تاکہ بات حتمی مرحلے میں داخل ہو جاتی۔ کیا کریں‘ امریکہ اور ایران‘ دونوں کا زعم‘ ضد‘ انا‘ تکبر اور غرور پوری دنیا کو لے بیٹھے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں