علی رضا عابدی قتل ،جرمانہ ادائیگی پر ملزمان کی رہائی کا حکم
انسداد دہشتگردی کی دفعات خارج ،جیل میں کاٹی گئی مدت سزا میں شمار پولیس تحویل میں اعترافی بیانات شہادت کے تحت ناقابل قبول ،ہائیکورٹ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم رہنما علی رضا عابدی کے قتل کے مقدمے میں ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انسداد دہشتگردی کی دفعات خارج کرتے ہوئے عمر قید کی سزا کو تبدیل کرتے ہوئے جیل میں کاٹی گئی مدت کو سزا میں شمار کرکے جرمانے کی ادائیگی پر ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ ایم کیو ایم رہنما علی رضا عابدی کے قتل کے مقدمے میں چار ملزمان عبدالحسیب، فاروق، ابو بکر اور غزالی کی جانب سے عمر قید اور جرمانے کی سزا کے خلاف کی سماعت ہوئی۔ جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کے پاس ملزمان کے خلاف بنیادی شواہد میں مبینہ اعترافی بیانات اور کال ڈیٹا ریکارڈ تھے تاہم یہ اعترافی بیانات مجسٹریٹ کے روبرو نہیں بلکہ پولیس تحویل میں حاصل کیے گئے جو قانون شہادت کے تحت ناقابل قبول ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماورائے عدالت اعتراف جرم بذات خود کمزور شہادت ہوتا ہے ۔ عدالت نے مزید کہا کہ کال ڈیٹا ریکارڈ بھی کسی موبائل کمپنی سے تصدیق شدہ نہیں تھا اور نہ ہی کال ریکارڈنگ یا ٹرانسکرپٹ پیش کیے گئے ، اس لیے سی ڈی آر کو حتمی ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ایسے ڈیٹا میں ردوبدل بھی ممکن ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تفتیش میں سنگین خامیاں پائی گئیں، جن میں سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہ کرنا، اہم گواہوں کو شامل نہ کرناشامل ہیں۔