کمسن بچی سے زیادتی کے ملزم کی اپیل مسترد سزا برقرار
بچی کی گواہی مکمل طور پر قابلِ اعتماد اور سچائی پر مبنی ہے ، ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں،عدالت عالیہ کمسن متاثرین کو دفعہ 164 کے بیان کے لیے بار بار اپنے تکلیف دہ تجربات دہرانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے ،سندھ پولیس کوہدایت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے کمسن بچی سے جنسی زیادتی کے مقدمے میں سزا یافتہ ملزم اشوک کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھی ہے ۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کمسن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مقدمات سے متعلق قرار دیا کہ دنیا بھر کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ بچے شاذ و نادر ہی ایسے الزامات گھڑتے ہیں، پاکستان جیسے معاشرے میں متاثرہ بچوں پر خاموش رہنے کے لیے شدید خاندانی اور سماجی دباؤ موجود ہوتا ہے ۔ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال اور جسٹس شمس الدین عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ 5 سالہ بچی کی گواہی مکمل طور پر قابلِ اعتماد، اعتماد پیدا کرنے والی اور سچائی پر مبنی ہے ، اس لیے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ بنیادی طور پر ملزم کا پورا خاندان ہی اس کے خلاف گواہی دے رہا تھا۔ عدالت نے سندھ پولیس کو بھی اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمسن متاثرین کو دفعہ 164 کے بیان کے لیے بار بار اپنے تکلیف دہ تجربات دہرانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ پولیس کو اپنے تفتیشی افسران کی خصوصی تربیت کرنا ہوگی تاکہ وہ کم عمر متاثرین کے ساتھ حساس انداز میں پیش آئیں اور انہیں مزید ذہنی اذیت سے بچایا جا سکے ۔ فیصلے میں عدالت نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق عالمی تحقیق کا حوالہ بھی دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان جیسے معاشرے میں جھوٹے الزامات کی شرح مغرب سے بھی کم ہونے کا امکان ہے کیونکہ یہاں متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو شدید سماجی دباؤ، بدنامی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اکثر متاثرین کو اپنے ہی خاندانوں کی جانب سے خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا ان کی بات پر یقین نہیں کیا جاتا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ 2026 میں عمومی قانونی اور سماجی اتفاقِ رائے یہی ہے کہ اگرچہ عدالتی نظام کو جھوٹے الزامات سے ہوشیار رہنا چاہیے ، تاہم کسی کمسن بچے کی جانب سے مکمل طور پر جھوٹا جنسی استحصال کا الزام گھڑنے کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں۔ دو رکنی بینچ نے متاثرہ بچی کو بہادر ننھی بچی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے عدالت میں پیش ہو کر اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی تفصیل بیان کی۔ عدالت کے مطابق اس کی گواہی مکمل طور پر قابلِ اعتماد اور سچائی پر مبنی تھی۔