تجاوزات کیس، میئراور دیگر افسران سے چار ہفتوں میں جواب طلب
مقررہ مدت میں جواب نہ دینے کی صورت میں متعلقہ حکام کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوگا
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ میں شاہ فیصل کالونی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر عدالت نے میئر کراچی، میونسپل کمشنر کراچی اور ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ سمیت نامزد افسران سے چار ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقررہ مدت میں جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں متعلقہ افسران کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2016 میں شاہ فیصل کالونی میں تجاوزات کے خاتمے کا حکم دیا تھا، جس پر اس وقت کے ایم سی کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ تجاوزات کی مستقل نگرانی اور انسداد کیلئے باقاعدہ نظام قائم کیا جائے گا۔ وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے برخلاف نگرانی کا کوئی موثر نظام تشکیل نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں کے ایم سی کی جانب سے ہٹائی گئی تجاوزات دوبارہ قائم ہوچکی ہیں اور سرکاری زمینوں، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر دوبارہ قبضے کیے جا رہے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ میئر بطور سربراہ کے ایم سی جبکہ میونسپل کمشنر بطور انتظامی افسر عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے ذمہ دار ہیں، اس کے باوجود عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد یقینی نہیں بنایا گیا۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد تمام نامزد افسران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں میں تفصیلی جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔