اراضی قبضہ کیس، ایڈیشنل آئی جی کوعدالتی حکم پرموثر عمل کاحکم

اراضی قبضہ کیس، ایڈیشنل آئی جی کوعدالتی حکم پرموثر عمل کاحکم

ایس ایس پی، ایس ایچ او کاجواب غیر تسلی بخش، اسکیم 33میں ناظر پرحملہ ریاست پرحملہوز میں احکامات پر مؤثر عمل یقینی، ذمہ دار افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت7ر

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سینئر سول جج ملیر نے اسکیم 33 میں اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضے کے مقدمے میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایچ او سچل کے جمع شوکاز نوٹس کے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیا، اورایڈیشنل آئی جی کراچی کو 7روز میں احکامات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے اور ذمہ دار پولیس افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیدیا۔ عدالت نے سچل تھانے میں ایس ایچ او کی تبدیلی پر غور کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام کے احترام کو یقینی بنانے والے افسر کی تعیناتی کی بھی ہدایت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر اور ایس ایچ او سچل ولایت شاہ نے مؤقف اختیار کیا عدالتی ناظر اور سرکاری افسران پر فائرنگ کا مقدمہ درج کر لیا، اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد بھی کر دیا، لہذا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے ۔ تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت نے قبل ازیں عدالتی ناظر کو متنازع جائیداد کا ریسیور مقرر کرتے ہوئے پولیس حکام کو حکم دیا تھا کہ قبضہ دلوانے کے لیے مناسب نفری فراہم کی جائے ۔ تاہم 2 جون کو جب عدالتی ناظر، پولیس اور ریونیو افسران موقع پر پہنچے تو مبینہ غیر قانونی قابضین نے ان پر فائرنگ کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایس ایچ او سچل کا یہ مؤقف کہ واقعہ ان کی تعیناتی سے قبل پیش آیا، انہیں قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مبینہ غیر قانونی قابضین کی جانب سے عدالتی ناظر اور سرکاری حکام پر فائرنگ محض فوجداری واقعہ نہیں, عدالتی نظام اور ریاستی اتھارٹی پر براہ راست حملہ ہے ۔ ذمہ دار پولیس افسران کیخلاف کارروائی کی جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں