ہل پارک میں غیر قانونی تعمیرات : کے ایم سی نے لینڈ ڈپارٹمنٹ کا این او سی بھی جعلی قرار دے دیا

ہل پارک میں غیر قانونی تعمیرات : کے ایم سی نے لینڈ ڈپارٹمنٹ کا این او سی بھی جعلی قرار دے دیا

بلڈر نے زمین کی اصل حیثیت عدالت سے چھپائی، دعویٰ کردہ زمین کا لے آؤٹ پلان میں کوئی ریکارڈ نہیں ،ڈائریکٹرلینڈ لینڈ ڈپارٹمنٹ کے جاری این او سیز منسوخ ، ہل پارک میں غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن پر پابندی عائد کرنے کی استدعا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ میں ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر کے ایم سی نے جواب جمع کرا دیا، کے ایم سی کے ڈائریکٹر لینڈ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بلڈر نے زمین کی اصل حیثیت عدالت سے چھپائی، دعویٰ کردہ زمین کا ہل پارک لے آؤٹ پلان میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق متنازع اراضی ہل پارک کی نوٹیفائڈ حدود میں شامل ہے ۔ کے ایم سی نے لینڈ ڈپارٹمنٹ کا این او سی بھی جعلی قرار دے دیا۔ عدالت نے کے ایم سی کی رپورٹ ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے درخواستوں کی سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کردی۔ جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اور دیگر کی جانب سے ہل پارک میں غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔

سماعت کے دوران کے ایم سی نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرادیا۔ کے ایم سی کے ڈائریکٹر لینڈ نے رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ بلڈر نے زمین کی اصل حیثیت عدالت سے چھپائی ہے ۔ دعویٰ کردہ زمین کا ہل پارک لے آؤٹ پلان میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق متنازع اراضی ہل پارک کی نوٹیفائڈ حدود میں شامل ہے جبکہ 1974 میں منظور شدہ 56 ایکڑ اراضی پر مشتمل کوہسار اسکیم میں بھی ہل پارک کی حدود واضح ہیں۔ کے ایم سی کے مطابق لینڈ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیا گیا این او سی جعلی ہے ۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ کے ایم سی لینڈ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے این او سیز منسوخ کیے جائیں، ہل پارک میں غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن پر پابندی عائد کی جائے اور تعمیر شدہ ڈھانچوں کو مسمار کرکے زمین کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...