ڈیفنس میں خواتین تنازع کا کیس : متاثرہ خاندانوں کو دھمکیوں اور صلح کیلئے دبائو کا انکشاف
متاثرہ بہن بھائی 11 روز سے خوف کے باعث اپنے گھر نہیں جاسکے اور رشتے داروں کے ہاں رہنے پر مجبور ہیں،درخواست گزار سندھ ہائی کورٹ کا درخواست گزاروں کو پولیس تحفظ فراہم کرنے کا حکم ، ایس پی کمپلینٹ سیل جنوبی اور ایس ایچ او درخشاں کو نوٹس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈیفنس میں خواتین کے تنازع سے متعلق مقدمے میں متاثرہ خاندان کو دھمکیاں اور صلح کے لیے دباؤ ڈالے جانے کا انکشاف ہوا ہے ، وکیل درخواست گزار کے مطابق متاثرہ بہن بھائی گزشتہ 11 روز سے خوف کے باعث اپنے گھر نہیں جاسکے اور رشتے داروں کے ہاں رہنے پر مجبور ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کو پولیس تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے فریقین کو 21 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کردیئے ، جبکہ سیشن عدالت جنوبی نے تشدد کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر ایس پی کمپلینٹ سیل جنوبی اور ایس ایچ او درخشاں کو نوٹس جاری کردیئے۔
ڈیفنس میں خواتین کے تنازع پر درج ایف آئی آر کالعدم قرار دینے کی درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سلیم کی سربراہی میں آئینی بینچ نے کی۔ درخواست گزار نور العین اور ان کے بھائی کی جانب سے محمد عارف ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف درج ایف آئی آر غلط اور غیر قانونی ہے جبکہ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور صلح کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نور العین اور ان کے بھائی گزشتہ 11 روز سے خوف کے باعث اپنے گھر نہیں جاسکے اور رشتے داروں کے گھر قیام پذیر ہیں۔ درخواست گزاروں کو خدشات لاحق ہیں، اس لیے پولیس کو انہیں تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
وکیل کے مطابق ڈی آئی جی ساؤتھ نے درخواست گزاروں سے رابطہ کیا ہے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ پولیس حکام نے درخواست گزاروں کے بیانات بھی قلمبند کرلیے ہیں اور کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ عدالت نے پولیس حکام کو درخواست گزاروں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے فریقین کو 21 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کردیئے ۔ دوسری جانب سیشن عدالت جنوبی میں بھی ڈیفنس میں خواتین کے جھگڑے کے معاملے پر تشدد کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ تشدد کے واقعے کے باوجود پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جس پر عدالت سے مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments