پروفیسر عارف ساقی پرتشدد، پولیس نے مرکزی ملزم گرفتار کرلیا

پروفیسر عارف ساقی پرتشدد، پولیس نے مرکزی ملزم گرفتار کرلیا

کونین شاہ نے عبوری ضمانت کرا رکھی تھی، قائمہ کمیٹی کی سرزنش کے بعد گرفتاریپولیس نے صفورا میں ہوٹل بھی سیل کردیا، باہر نفری تعینات، 5ملزم پہلے ہی گرفتار

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر عارف خان ساقی اور بھتیجے پرتشدد میں ملوث مرکزی ملزم کونین شاہ کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ جبکہ صفورا پرواقع ہوٹل سیل کرکے باہر نفری تعینات کردی گئی۔ ملزم کی گرفتاری قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سندھ کی چیئرپرسن کی سخت سرزنش کے بعد عمل میں آئی۔ پولیس حکام کے مطابق مرکزی ملزم مفرور تھا۔ انویسٹی گیشن پولیس نے واقعے کے بعد مجموعی طور پر 5 ملزم گرفتار کئے جو ریمانڈ پر ہیں۔خیال رہے کہ 8 ستمبر کو جامعہ کراچی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ پروفیسر عارف ساقی کا غریب کے لیے آواز اٹھانا جرم بن گیا تھا، بااثر افراد نے بات ماننے کے بجائے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔پروفیسر عارف ساقی نے بتایا تھا کہ صفورا چورنگی پر ڈبل کیبن کے ساتھ سکیورٹی گارڈز نے رکنے کا اشارہ کیا، پھر تیزی سے ریورس کرتے ہوئے آن لائن ٹیکسی سے ڈبل کیبن ٹکرا دی۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے نقصان بھرنے کا مطالبہ کیا تو ڈبل کیبن سے نکلنے والے شخص نے تشدد کیا۔اس سے قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت ملیر نے کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر عارف ساقی اور ان کے بھتیجے پر تشدد کے کیس میں مرکزی ملزم کونین شاہ کی عبوری ضمانت منظور کر لی۔عدالت نے ملزم کونین کو 20 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے اسے شاملِ تفتیش ہونے کی ہدایت کی۔سیشن عدالت ملیر نے درخواستِ ضمانت کی سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر کو طلب کر لیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...