فنگس زدہ خشک ناریل کی درآمد سے متعلق درخواست مسترد

 فنگس زدہ خشک ناریل کی درآمد سے متعلق درخواست مسترد

متاثرہ سامان کی صنعتی مقاصد کے لیے کلیئرنس کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی ،فیصلہپودوں، فصلوں اور ملک کے حیاتیاتی تحفظ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں،ہائیکورٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے فنگس سے متاثرہ خشک ناریل کی درآمد سے متعلق درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ متاثرہ سامان انسانی استعمال کے بجائے صابن کی تیاری میں صنعتی مقاصد کے لیے درآمد کیا گیا ہو، تب بھی اس کی کلیئرنس کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس سے پودوں، فصلوں اور ملک کے حیاتیاتی تحفظ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل بینچ نے درخواست پر فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار کمپنی نے محکمہ تحفظ نباتات سے پاکستان پلانٹ کوارنٹائن رولز 2019 کے تحت درآمدی اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد خشک ناریل کی کھیپ درآمد کی تھی، تاہم معائنے کے بعد محکمہ تحفظ نباتات نے 22 جولائی 2026 کو سامان میں شدید فنگس کی موجودگی کے باعث اسے ضبط کرکے تلف کرنے یا اصل ملک واپس بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست دائر ہونے کے بعد 28 جولائی کو درخواست گزار کے نمائندے کی موجودگی میں سامان کا دوبارہ معائنہ کیا گیا، جس میں بھی اس کے مکمل طور پر فنگس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی، لہٰذا اس حوالے سے اب کوئی تنازع باقی نہیں رہا۔عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ قواعد کے تحت کارروائی کو صرف غذائی تحفظ کے معیار پر نہیں پرکھا جا سکتا اور درخواست گزار محکمہ تحفظ نباتات کی رائے کو غلط ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ سامان کی کلیئرنس سے حیاتیاتی تحفظ کو خطرات لاحق ہوں گے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...