شہر میں 133 سرکاری سکولوں کی عمارتیں خطرناک قرار

شہر میں 133 سرکاری سکولوں کی عمارتیں خطرناک قرار

خطرناک بلاکس کو سیل کرتے ہوئے طلبہ کی منتقلی کا عمل بھی شروع

لاہور(خبر نگار)لاہور میں 133 سرکاری سکولوں کی عمارتیں خطرناک قرار دے دی گئیں، سی اینڈ ڈبلیو کے سروے کے بعد کلاسز معطل کر کے عمارتوں کو کارڈن آف کر دیا گیا۔ طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر تعلیمی سرگرمیاں متبادل انتظامات کے تحت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں 133 سرکاری سکولوں کی عمارتیں خستہ حال اور خطرناک قرار دے دی گئی ہیں۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے تفصیلی سروے کے بعد ان عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرا کر کارڈن آف کر دیا گیا۔

ایجوکیشن اتھارٹی کے سی ای او نذیر حسین کے مطابق 133 عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر مخدوش تھیں، جن میں تدریسی عمل فوری طور پر روک دیا گیا ہے ۔ رپورٹ کی روشنی میں خطرناک بلاکس کو سیل کرتے ہوئے طلبہ کی منتقلی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب لاہور کے 144 سکولوں میں نئے ٹوائلٹ بلاکس کی تعمیر جاری ہے جبکہ 34 سکولوں میں باؤنڈری والز بنانے کا کام تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے ۔ جہاں تعمیراتی کام جاری ہے وہاں حصوں کو مکمل طور پر کارڈن آف کر دیا گیا ہے اور نگرانی کیلئے ٹیچر فوکل پرسن بھی تعینات کیے گئے ہیں۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مخدوش عمارتوں کی مرمت یا ازسرنو تعمیر تک طلبہ کی تعلیم متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں